سعودی عرب میں "روئل ریزرو"... سبز رقبوں میں اضافے کے لیے "وژن 2030" کی ماحولیاتی تجربہ گاہ
یہ مملکت کے کُل رقبے کا 14.2 فی صد حصے پر محیط ہیں
سعودی عرب نے "سعودی گرین" منصوبے کے تحت 2030 تک مملکت میں خشکی اور سمندر کے 30 فی صد حصے کو "ریزرو" میں تبدیل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ملک میں روئل ریزرو اس ہدف کے حصول کا مرکزی ذریعہ بن چکے ہیں۔ یہ ریزرو اس وقت سعودی عرب کے کُل رقبے کے تقریباً 14.2 فی صد حصے پر محیط ہیں اور ماحولیاتی پالیسیوں کے اثرات جانچنے کی ایک عملی مثال بن چکے ہیں۔ ان ریزرو کو شاہی احکامات کے ذریعے قائم کیا گیا اور بادشاہوں کے نام دیے گئے، جس سے انھیں ایک علامتی اور قومی حیثیت ملی۔ ان کے لیے ایک خود مختار نظام تشکیل دیا گیا ہے جس کی قیادت ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کرتے ہیں۔ انھیں علیحدہ بجٹ اور انتظامی اختیارات حاصل ہیں، جس سے فیصلے تیز رفتاری سے کرنے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے منصوبے مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں مدد ملی ہے۔
سعودی عرب میں آٹھ روئل ریزرو قائم ہیں۔ ان میں سب سے بڑا "محمية الملك سلمان" ہے جس کا رقبہ 1,30,700 مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے، جب کہ "محمية الإمام فيصل بن تركي" 30,152 مربع کلومیٹر پر پھیلی ہے۔ یہ ریزرو پہاڑوں، صحراؤں، میدانوں اور وادیوں جیسی متنوع قدرتی فضا پر مشتمل ہیں جو غزال، المہٰی (عربی ہرن) اور شترمرغ جیسے جانوروں کی دوبارہ آباد کاری اور نایاب اقسام کے تحفظ کے لیے موزوں ماحول فراہم کرتی ہیں۔
رواں سال کے آغاز سے کئی اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں : کنگ عبدالعزیز ریزرو بین الاقوامی تنظیم آئی یو سی این کی "گرین لسٹ" میں شامل ہوا۔ مزید یہ کہ "پرنس محمد بن سلمان ریزرو" نے پرندوں کی 242 انواع پر مشتمل پہلی جامع فہرست شائع کی جو ملک میں ریکارڈ شدہ اقسام کا 45 فی صد ہے،۔ اسی طرح "امام تركی بن عبد الله ریزرو" کو یونیسکو کے "انسان اور حیاتیاتی کرہ" پروگرام میں شامل کیا گیا۔
یہ تمام ریزرو نایاب انواع کی افزائش، سبزہ کاری، لاکھوں درختوں کی شجرکاری اور سائنسی تحقیق کے لیے قدرتی تجربہ گاہوں کا کردار ادا کر رہے ہیں، جس سے 30 سے زائد مقامی اقسام کے تحفظ اور دوبارہ رہائش ممکن بنائی جا رہی ہے۔ یہ علاقے "سعودی گرین" وژن کا اہم ستون ہیں جو کاربن اخراج میں کمی، قدرتی وسائل کے تحفظ اور 2030 تک 8 کروڑ درخت لگانے کے ہدف میں براہ راست معاون ہیں۔
مزید یہ کہ ان ریزرو نے ماحولیاتی سیاحت کو فروغ دیا ہے، جہاں تعلیمی اور آگاہی سرگرمیوں کے ذریعے سالانہ 23 لاکھ سے زیادہ سیاحوں کو متوجہ کرنے اور 15 سے زائد تاریخی مقامات کو بحال کرنے کا منصوبہ ہے۔ سعودی عرب موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے 10 ارب درخت لگانے اور 7.4 کروڑ ہیکٹر اراضی بحال کرنے کا ہدف رکھتا ہے، تاکہ ماحولیاتی توازن، ہوا کے معیار اور پائیداری میں بہتری لائی جا سکے۔