شامی صدر احمد الشرع نے اس بات پر زور دیا کہ شام امن و سلامتی کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق رکھتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہ بات خطے اور دنیا دونوں کے مفاد میں ہے۔
الشرع نے امریکی چینل CBS نیوز کے پروگرام "60 منٹ" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا: دمشق کو زیر نگیں کرنے کے بعد سے اسرائیل کو کسی اشتعال انگیزی کا نشانہ نہیں بنایا اور نہ ہی ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا وجود اسرائیل یا کسی دوسری ریاست کے لیے خطرہ بنے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل کی جانب سے صدارتی محل کو نشانہ بنانا کوئی ''پیغام بھیجنے کی کوشش'' نہیں بلکہ جنگ کا اعلان تھا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دمشق جنگ میں الجھنا نہیں چاہتا۔ انھوں نے اس جانب اشارہ کیا کہ اسرائیل کو آٹھ دسمبر 2024 کے بعد قبضہ کی گئی تمام مقامات سے واپس ہٹ جانا چاہیے۔
الشرع نے مزید کہا کہ شام اُن بین الاقوامی شراکتوں کے لیے تیار ہے، جو اس کی خودمختاری کا احترام کرتی ہیں۔
تعمیرِ نو
اس موقع پر الشرع نے اشارہ کیا کہ سابقہ حکومت کے دور میں تباہ شدہ علاقوں کی تعمیرِ نو ریاست کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس عمل پر 600 سے 900 ارب ڈالر تک لاگت آئے گی، جو بین الاقوامی برادری کی وسیع حمایت کی متقاضی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا نے اس المیے کو 14 برس تک دیکھا مگر اس بڑے جرم کو روکنے میں ناکام رہی، لہٰذا اب ضروری ہے کہ وہ شام کی مدد کرے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ملک پر عائد بین الاقوامی اقتصادی پابندیاں تعمیرِ نو کی کوششوں میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا: شام کی پوری کی پوری نسلیں اس جنگ کے باعث شدید نفسیاتی صدمات سے دوچار ہوئی ہیں، یہ وہ جنگ تھی جو سابقہ حکومت نے چھیڑی، جس میں دس لاکھ سے زائد شامی شہری مارے گئے، بے شمار علاقے اور بنیادی ڈھانچے تباہ ہوئے، اور لاکھوں افراد یا تو ملک سے پناہ گزین بن کر نکل گئے یا اندرونِ ملک بے گھر ہو گئے۔
الشرع نے کہا کہ سابق صدر بشار الاسد جو روس فرار ہو چکے ہیں، کے خلاف قانونی کارروائی کے ذریعے پیچھا کیا جائے گا۔
ساحل اور سویدا علاقے کے واقعات
جہاں تک ساحلی اور سویدا کے علاقوں میں پیش آنے والے واقعات کا تعلق ہے، شامی صدر نے زور دیا کہ یہ ایک اندرونی معاملہ ہے جسے قانونی دائرے میں رہ کر حل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاست اس بات کی پابند ہے کہ عام شہریوں کے خلاف جرائم کرنے والوں کا، چاہے وہ کسی بھی فریق سے تعلق رکھتے ہوں، احتساب کیا جائے۔
صدارتی محل میں اپنے پہلی بار داخلے سے متعلق سوال کے جواب میں الشرع نے کہا:یہ کوئی زیادہ خوشگوار تجربہ نہیں تھا، کیونکہ اسی محل سے شامی عوام کے خلاف بہت سا ظلم اور شر پھیلا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج سب سے اہم بات یہ ہے کہ لوگوں کو تعمیرِ نو اور اپنے گھروں کو واپس جانے کی امید دی جائے، کیونکہ تعمیرِ نو صرف ڈھانچوں یا عمارتوں کی بحالی تک محدود نہیں، بلکہ اس میں اُن نفسیاتی صدمات کا علاج بھی شامل ہے جو جنگ نے عوام پر چھوڑے ہیں۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ گذشتہ آٹھ دسمبر کو سابق حکومت کے سقوط کے بعد سے اسرائیل نے 1974 کے جنگ بندی معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی ہے، اور اس کی افواج گزشتہ کئی مہینوں سے غیر فوجی علاقے میں داخل ہو کر کارروائیاں کر رہی ہیں۔
اسی طرح اسرائیلی افواج نے جنوبی شام اور دمشق کے اطراف میں متعدد شامی فوجی اثاثوں اور مقامات پر بمباری کی ہے۔ جبکہ حال ہی میں اسرائیلی اور شام کے درمیان سیکورٹی معاہدے کے لیے ہونے والے متعدد مذاکرات ابھی تک کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔