سعودی عرب : 15 طلبہ کو قدیمی مساجد کی بحالی اور روایتی فنون کی عملی تربیت دینے کا آغاز
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے قدیمی مساجد کی ترقی اور عرب ثقافت کے فروغ کے لیے 15 سعودی طلبہ کو مختلف تاریخی مساجد میں ذمہ داریاں تفویض کی ہیں۔ تاکہ وہ سعودی عرب کے 'رائل انسٹیٹوٹ آف ٹریڈیشنل آرٹس' کے ذریعے قومی ورثہ کے تحفظ اور فروغ کی عملی تربیت پا سکیں۔
طلبہ کے لیے عملی تربیت کا یہ دورانیہ 6 ماہ تک کا ہوگا جہاں وہ فیلڈ میں رہتے ہوئے روایتی مٹی کی اینٹوں سے تعمیرات اور لکڑی سے اشیاء بنانے کا کام سیکھیں گے۔ انہیں یہ تربیت سعودی عرب کے ماہر اور تجربہ کار انجینیئرز دیں گے۔
ان 15 طلبہ کی کھیپ کے بعد مزید 15 سعودی طلبہ اسی پروگرام کا حصہ بنیں گے اور وہ 2026 کے شروع میں عملی تربیت کے اس پراسس سے فائدہ اٹھائیں گے۔
یہ بات سعودی خبر رساں ادارے 'ایس پی اے' نے پیر کے روز بتائی ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق اس عملی تربیت کے کام کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک حصہ سعودی عرب کی روایتی قدیمی تعمیراتی فن سے متعلق ہے۔ جس میں گارے سے بنی اینٹوں سے تعمیرات کی جاتی ہیں اور دوسرے حصے میں لکڑی کے بنے روایتی نجدی دروازوں کے بنانے کے لیے تربیت دی جائے گی۔ یہ طلبہ بڑھئی کے کام کے علاوہ لکڑی میں کندہ کاری کا کام سیکھیں گے اور نجد کے علاقے میں لکڑی کے پرانے قدیمی دروازوں کی روایت کو زندہ کریں گے۔
یہ فن و ثقافت کی تربیت 30 مختلف قدیمی مساجد کی بحالی کے منصوبے کا حصہ ہے جو سعودی عرب کے 10 مختلف علاقوں میں واقع ہیں۔
اس منصوبے کے تحت مستند تعمیراتی عرب اسلوب اور تاریخی مساجد کی بحالی شامل ہے۔ تاکہ نئی نسل اپنی ثقافت اور روایت سے آشنا ہو سکے۔
یاد رہے قدیمی مساجد کو بحال کرنے کا منصوبہ مملکت کے ویژن 2030 کا حصہ ہے جس کی نگرانی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان خود کرتے ہیں۔
-
سعودی وزیرِ ثقافت کی مصر میں عظیم میوزیم کی افتتاحی تقریب میں شرکت
سعودی عرب کے وزیرِ ثقافت، شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے مصر میں عظیم مصری ...
مشرق وسطی -
سعودی مطالعہ: بحیرہ احمر میں حیاتیاتی تنوع کے سب سے بڑے اعداد و شمار پیش
دنیا کے سب سے منفرد سمندری ماحولیاتی نظام میں سے ایک بحیرہ احمر 12.8 بلین سے ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب کی جانب سے غزہ میں ہنگامی امدادی منصوبوں کے لیے4.5 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ
سعودی عرب کی جانب سے 7 ہزار ٹن سے زیادہ امداد غزہ کی پٹی پہنچ چکی ہے
مشرق وسطی