طالبان حکومت کی بھارت کے بعد ایران سے بھی تجارتی قربت میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

افغانستان نے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کے بعد اپنے تجارتی روٹ کو ایران کی طرف منتقل کر دیا ہے۔

افغانستان کا یہ تجارتی روٹ اب ایران اور سنٹرل ایشیا کے ذریعے مکمل ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان کی طرف سے سرحد کو حالیہ ہفتوں میں بند کرنے اور کشیدگی کی حالیہ صورتحال کے بعد کیا گیا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستانی بندرگاہوں پر افغانستان کا تجارتی انحصار پاکستان کو افغانستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال ہوتا ہے تاکہ کابل دہشت گردوں کو پاکستان میں حملے کرنے سے روکے۔

افغانستان نے اس کا یہ راستہ نکالا ہے کہ اس نے اپنی تجارت کو ایران کی بھارتی اثر و رسوخ والی بندرگاہ چابہار سے جوڑ دیا ہے۔ تاکہ پاکستان کی سرحد پر اسے جن دقتوں کا سامنا ہے اس سے بچ سکے۔

افغانستان کے ترجمان برائے وزارت تجارت عبدالسلام جواد اخوندزادہ نے 'روئٹرز' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پچھلے 6 ماہ سے ہماری تجارت ایران کے ساتھ 1.6 ارب ڈالر تک ہوگئی یے اور یہ پاکستان کے ساتھ ہونے والی تجارت سے 1.1 ارب ڈالر زیادہ ہے۔ چابہار میں تجارتی اشیاء کی آمد و رفت میں تاخیر کا بھی کوئی موقع نہیں ہے۔

افغانستان کےنائب وزیراعظم برائے تجارتی امور ملا عبدالغنی برادر نے کہا ہے کہ ہم نے افغان تاجروں کو تین ماہ کا وقت دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تجارتی معاملات کو 3 ماہ کے دوران طے کر کے چابہار کے راستے تجارت سے منسلک کریں۔

ملا برادر نے پاکستان پر الزام لگایا کہ وہ تجارتی و انسانی امور کو دباؤ کے لیے کام کرتا ہے۔ ہم تین ماہ کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد پاکستان کے ساتھ مذاکرات کریں گے اور نہ ہی پاکستان سے آنے والی ادویات کو افغانستان میں داخل ہونے دیں گے۔

ایرانی بندرگاہ چابہار پر تجارتی سرگرمیوں میں اس وقت تیزی آئی جب بھارت نے 2017 میں ایران کے ساتھ معاہدہ کیا۔ افغان حکام کے مطابق انہیں چابہار سے اشیائے تجارت کی نقل و حمل کے لیے کئی قسم کی ترغیبات مل رہی ہیں۔ ان میں اشیاء کو ذخیرہ کرنے کے کرایوں میں کمی کے علاوہ کارگو کے اخراجات میں بھی کمی ہے۔

ایران نے چابہار پر جدید ترین آلات کی تنصیب کی ہے اور افغانستان کو 30 فیصد کارگو میں رعایت بھی دی ہے۔ جبکہ ٹیرف میں بھی کمی کی ہے۔ اسی طرح سٹوریج کی فیس میں 75 فیصد کمی کی ہے۔ جبکہ 55 فیصد کمی بندرگاہ کے دیگر چارجز میں کی ہے۔ یہ تفصیلات وزارت تجارت کے ترجمان نے 'روئٹرز' کو فراہم کیں۔

یاد رہے روس کی طرح ایران بھی ان ملکوں میں شامل ہے جن پر امریکہ و یورپی ملکوں نے بہت زیادہ پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ مستقبل میں افغان تجارت اور چابہار بندرگاہ کا بھارتی بندوبست کس طرح کرتا ہے یہ بھی دیکھنے کی بات ہے۔

ادھر پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستانی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے اس تجارتی فیصلے سے پاکستان کو کوئی نقصان نہیں ہے۔ اس لیے وہ جہاں سے چاہے تجارت کرتا رہے۔ جبکہ پاکستان کے وزیر تجارت جام کمال نے 'روئٹرز' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہم تجارتی معاملات کو ملکی سلامتی پر ترجیح نہیں دے سکتے۔

افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت افغان طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات اور معاہدوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ جس سے آئندہ دنوں دونوں کے تعلقات میں مذید بہتری ہوگی۔

یاد رہے حال ہی میں قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بھارت کا دورہ بھی کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں