اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ کے بارے میں امریکی منصوبے کی تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان غزہ سے متعلق امریکی مسودہ قرار داد پر جاری اختلافات کے باوجود توقع کی جا رہی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پیر کی رات اس پر رائے شماری کرے گی۔

امریکہ نے اس قرار داد کا مسودہ تیار کیا ہے جو 11 نکات پر مشتمل ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ منصوبے پر مبنی ہے۔ اس منصوبے کے تحت تجویز کی گئی بین الاقوامی فورس اسرائیلی فوج کے بدلے غزہ میں تعینات ہو گی۔

مسودہ قرار داد میں غزہ میں "بین الاقوامی استحکام فورس" کی تعیناتی اور ایک "سلامتی کونسل" کے قیام کی سفارش کی گئی ہے، جس کی سربراہی ٹرمپ کریں گے۔ یہ کونسل عارضی طور پر 31 دسمبر 2027 تک غزہ کا انتظام سنبھالے گا۔ یہ شق نہ صرف جنگ بندی قائم رکھنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے بلکہ موجودہ معاہدے کی پاسداری پر بھی توجہ مرکوز کرتی ہے۔

مسودہ میں فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے ایک اہم نکتہ شامل ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی اصلاحات اور غزہ کی دوبارہ ترقی کے بعد حالات ایسے ہو سکتے ہیں کہ فلسطینی خود ارادیت کے راستے پر آگے بڑھیں اور مستقبل میں ایک فلسطینی ریاست قائم ہو۔ اس ضمن میں امریکہ ... اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ایک سیاسی مکالمے کا راستہ بھی قائم کرے گا تاکہ پُر امن اور خوش حال بقائے باہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم سلامتی کونسل کو عبوری انتظامیہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے، نہ کہ عبوری حکومت کے طور پر۔

مسودے کے دیگر نکات میں انسانی اداروں کے کردار میں کچھ ترامیم کی گئی ہیں۔ پہلی ترمیم میں کسی بھی ادارے پر پابندی عائد کرنے کے جملے کو ہٹا دیا گیا جو امداد کے غلط استعمال کی صورت میں آئندہ تعاون سے روکنے کے بارے میں تھا۔ پانچویں نکتے میں "عبوری" کی اصطلاح شامل کی گئی اور کہا گیا کہ غزہ کی انتظامی اکائیاں سلامتی کونسل کی نگرانی میں کام کریں گی اور فنڈز عطیہ دہندگان اور متعلقہ مالیاتی ذرائع سے فراہم ہوں گے۔

مسودے کے ساتویں نکتے میں اسرائیلی فوج کے انخلا کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ نئے متن کے مطابق انخلا کا آغاز تب ہوگا جب بین الاقوامی فورس غزہ میں کنٹرول اور استحکام قائم کرے گی، جبکہ سابقہ متن میں انخلا ہتھیار ڈالنے کی مرحلہ وار کارروائی اور فوجی معیارات سے مشروط تھا۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق نئے امریکی مسودے میں فلسطینی ریاست کے قیام کا نکتہ اور دیگر شقیں اسرائیل کے لیے غیر موافق ہیں۔ ایک سیکیورٹی عہدے دار نے کہا "ہم غزہ سے تب تک نہیں ہٹیں گے جب تک یہ بات یقینی نہ ہو کہ ایک بھی بندوق دوبارہ اسرائیل کی جانب نہ اٹھائی جائے۔"

امریکی مسودے کی منظوری کے لیے کم از کم نو ووٹ درکار ہیں اور پانچ مستقل رکن ممالک (روس، چین، فرانس، برطانیہ، امریکا) میں سے کسی کا ویٹو استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ اگر یہ مسودہ منظور ہو جاتا ہے تو یہ 2023 میں طے پانے والے امریکی حمایت یافتہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کی شروعات ہو گی، جو دو سالہ جنگ کے بعد جنگ بندی کا سبب بنا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں