اسرائیل کی فوج نے پیر کو کہا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ایک کارکن کو ہلاک کر دیا۔ اسرائیل اور ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے باوجود یہ خطہ کئی حملوں کا مشاہدہ کر چکا ہے۔
فوج نے ایک بیان میں کہا، "کل (اتوار کی) شام دفاعی افواج نے جنوبی لبنان میں منصوری کے علاقے میں حزب اللہ کے دہشت گرد محمد علی شویخ پر حملہ کر کے ہلاک کر دیا۔"
فوج نے کہا کہ نشانہ بننے والا کارندہ علاقے میں حزب اللہ کا مقامی نمائندہ تھا۔
"وہ مالی اور عسکری معاملات سے متعلق دہشت گرد تنظیم اور علاقے کے رہائشیوں کے درمیان رابطے کا ذمہ دار تھا۔ مزید برآں وہ دہشت گردی میں استعمال کے لیے نجی اثاثوں پر قبضہ کرنے کے لیے کام کرتا تھا،" فوج نے مزید کہا۔
"دہشت گردوں کی سرگرمیاں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مفاہمت کی خلاف ورزی ہیں۔"
لبنانی وزارتِ صحت نے اتوار کے روز کہا کہ حملے میں اسرائیلی سرحد سے صرف 10 کلومیٹر (چھ میل) کے فاصلے پر منصوری قصبے میں ایک گاڑی نشانہ بنی جس کے "نتیجے میں ایک شہری کی شہادت ہوئی۔"
لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ مقتول منصوری میں ایک سکول پرنسپل تھا۔
لبنان میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے اتوار کو ملک کے جنوب میں اس کے فوجیوں پر گولی چلائی جبکہ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے دو مشتبہ افراد کو دیکھا اور خبردار کرنے کے لیے گولیاں چلائیں۔
اسرائیلی فوج نے "خراب موسمی حالات" کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس نے اقوامِ متحدہ کے فوجیوں کی طرف دانستہ گولی نہیں چلائی۔