یمنی حکومت کو غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس میں شامل کرنے کی امریکی کوشش شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکہ نے یمنی حکام سے رابطہ کر کے انہیں غزہ کے لیے مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس کا حصہ بننے کا کہا ہے۔ تاکہ امریکی صدر کے 20 نکاتی منصوبے کے مطابق غزہ میں حالات کو سازگار بنایا جا سکے۔

یہ بات یمن کے 5 حکومتی ذرائع نے مغربی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتائی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی صدر کے امن منصوبے کی اسی ہفتے کے دوران ایک قرارداد کی صورت توثیق کی ہے۔ نیز بین الاقوامی استحکام فورس کو سلامتی کونسل کا مینڈیٹ دے دیا ہے۔

تاہم یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اس استحکام فورس کی تشکیل میں بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے اور اس میں ایک بڑی رکاوٹ کئی عرب و مسلم ممالک کی طرف سے اس بین الاقوامی استحکام فورس میں شامل ہونے سے ہچکچاہٹ کا اظہار ہے۔

اس ہچکچاہٹ کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ بین الاقوامی استحکام فورس کا حماس کے ساتھ تصادم کا بھی خطرہ رہ سکتا ہے۔

امریکہ کی طرف سے اس رابطے کے باوجود ابھی یمنی حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

یمنی حکومت کے ذرائع کے مطابق جن میں یمنی سفارتکار ، فوجی حکام اور دوسرے اعلیٰ حکام شامل ہیں جن کا تعلق صدارتی کونسل سے ہے وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔

ان تمام یمنی حکام نے امریکی رابطے اور فیصلہ نہ ہونے کی خبر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر 'اے ایف پی' سے شیئر کی ہے اور کہا ہے کہ یہ معاملہ بہت حساس نوعیت کا ہے۔ اس لیے وہ اپنا نام نہیں دے سکتے۔

یمنی صدارتی کونسل میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کوئی کردار یمنی حکومت نے غزہ کے لیے قبول کیا تو بھی اس کی حیثیت محض علامتی ہوگی۔

یمن ہی کے ایک سینیئر فوجی ذمہ دار نے کہا یہ درست ہے کہ اس بارے میں امریکی حکام کے ساتھ بات ہوئی ہے کہ یمن بھی بین الاقوامی استحکام فورس کا حصہ بنے۔ مگر ہم نے ابھی اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی ابھی ہمیں امریکہ کی طرف سے باضابطہ درخواست کی گئی ہے۔

خیال رہے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم کی گئی حکومت اندورنی طور پر کمزور اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہی ہے۔ اسے یمنی حوثیوں نے 2014 میں دارالحکومت صنعا سے مار بھگایا تھا۔ اب یمن کی زیادہ تر آبادی کے مراکز یمنی حوثیوں کے کنٹرول میں ہیں جو حماس کے حامی ہیں۔

ادھر حماس نے بین الاقوامی استحکام فورس حتیٰ کہ یو این کی تازہ قرارداد کی بھی مخالفت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں