فلسطینی ریاست کو تسلیم کر کے خونریزی کا خاتمہ کیا جائے: سابق سعودی سفیر کا امریکہ پر زور

عرب-یو ایس پالیسی میکرز کانفرنس سے مسئلہ فلسطین کے حل پر گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

شرقِ اوسط میں امن و استحکام مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل پر منحصر ہے، یہ بات برطانیہ اور امریکہ میں سعودی عرب کے سابق سفیر شہزادہ ترکی الفیصل نے واشنگٹن کے ایک معروف خارجہ پالیسی فورم سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

نیشنل کونسل آن یو ایس-عرب ریلیشنز کے زیرِ اہتمام سالانہ عرب-امریکی پالیسی ساز کانفرنس منعقد ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے سابق انٹیلی جنس سربراہ نے کہا، بار بار پیش آنے والی پریشانیوں نے خطے کو "تزویری الجھن کی حالت" سے دوچار کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا، شرقِ اوسط میں جنگیں "تنازعات کے پیاسے خطے میں تقریباً معمول" بنتی جا رہی ہیں۔

حماس کے سات اکتوبر کے حملوں پر اسرائیل کے "تباہ کن ردِعمل" پر روشنی ڈالتے ہوئے شہزادہ ترکی نے کہا، اس کے نتیجے میں ہونے والی جنگ "ایک ایسی سیاسی ناکامی کی نمائندگی کرتی ہے جو تکبر اور بے بنیاد عقائد سے پیدا ہوئی اور غزہ کے محصور لوگوں کے برداشت کردہ مصائب کو نظر انداز کا سبب بنی۔"

انہوں نے مزید کہا کہ ان "واہموں" کے باعث اسرائیل نے امن کے لیے عرب کوششوں کو غلط سمجھا۔

"تاہم یہ صرف شرقِ اوسط ہی نہیں جو پریشانی اور غیر یقینی کا شکار ہے۔ آج ہم دنیا کے نقشے پر جہاں بھی دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہر کونے میں ایک بحران ہے اور یہ مسائل کا مناسب حل تلاش کرنے کے لیے کوئی واضح افق نہیں ہے،" سابق سفارت کار نے کہا۔

انہوں نے کہا، تشدد کے تسلسل اور اس میں اضافہ کرنے میں تزویری الجھن کی اس حالت کا بہت زیادہ کردار ہے۔

"یہ نئے تنازعات پیدا کرنے کا بھی سب بنتا ہے جس سے خطے کی صورتِ حال پیچیدہ ہو جاتی ہے جہاں ہر بحران سے ایک اور بحران نکل آتا ہے اور جہاں ہر مسئلہ دوسرے مسئلے سے منسلک ہوتا ہے۔ شرقِ اوسط میں پریشانی اور الجھن کا مطلب ہے تیز سیاسی تقسیم کی حالت، تنازعات سے متعلق مسائل اور مسابقتی عناصر کی بہتات جو صورتِ حال سے ایک خاص اور عارضی بنیادوں پر نمٹتے ہیں۔" سابق سفارت کار نے کہا۔

شہزادہ ترکی نے ایک واضح سمت یا حکمتِ عملی کی کمی کو نمایاں کیا جس کا مقصد تنازعات کو پرامن انجام تک پہنچانا اور امن، استحکام اور سلامتی کے لیے ضروری حالات پیدا کرنا ہو۔

انہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے اور "جو ممالک اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ شرقِ اوسط میں امن اس مسئلے کو منصفانہ طریقے سے حل کرنے پر منحصر ہے"، انہیں قائل کرنے پر فرانس اور ناروے جیسے ممالک کے اقدامات کی تعریف کی۔

امریکہ سے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی کوششوں کو بنیاد کے طور پر استعمال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے شہزادہ ترکی نے کہا، عرب امن اقدام کے اصولوں کی حمایت کرتے ہوئے اور تنازع کے خاتمے کے لیے زور دیتے ہوئے واشنگٹن کو چاہیے کہ "قیادت کے لیے اہم ترین قدم اٹھائے اور خطے میں اپنے دوستوں اور اتحادیوں کی آواز پر توجہ دے۔"

انہوں نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "امن کے لیے اضافی قدم اٹھانے والے قائدین کو عظیم سمجھا جاتا ہے۔" نیز کہا: "صدر ٹرمپ، اب وہ رہنما بننے کی باری آپ کی ہے۔ اپنی 20 نکاتی جنگ بندی کی تجویز کو 21 ویں ناگزیر نکتے پر لے جائیں۔"

شہزادہ ترکی نے امریکی رہنما پر زور دیا کہ وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے سرکاری دورے کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے اور "فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی خونریزی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دینے" کے موقع کے طور پر استعمال کریں۔

انہوں نے غزہ تنازعے کے حل پر زور دیا تاکہ "فلسطینی عوام پر ہونے والی موت اور تباہی پیچھے رہ جائے اور ہم سب یعنی امریکی، فلسطینی، اسرائیلی اور سعودی عوام کے لیے امن و خوشحالی کی کوشش کریں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں