’’ ہیلی گوبی ‘‘ آتش فشاں کے اخراج نے ہماری فضا کو متاثر نہیں کیا: سعودی عرب

کسی بھی مؤثر موسمیاتی مظہر کے لیے ضروری اقدامات کریں گے: نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب نے تصدیق کی ہے کہ اس کی فضا آتش فشاں ’’ ہیلی گوبی‘‘ کی راکھ کے اخراج سے متاثر نہیں ہوئی ہے۔ اس کے دھوئیں کے بادل مشرقی ایتھوپیا میں اٹھے تھے جس کے نتیجے میں جزیرہ نما عرب کے جنوب مغربی حصوں پر راکھ کے بڑے بادل پھیل گئے تھے۔ سعودی عرب نے زور دیا کہ وہ کسی بھی مؤثر موسمیاتی مظہر کے یے ضروری اقدامات کرے گا۔

سیٹلائٹ ڈیٹا سے آتش فشاں کے پھٹنے کے ساتھ ہی سلفر ڈائی آکسائیڈ گیس کی بڑی مقدار کا اخراج ظاہر ہوا۔

نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی (NCM) کے سرکاری ترجمان حسین القحطانی نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ موسمیاتی نگرانی کی تازہ ترین تصاویر اور تجزیاتی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ’’ ہیلی گوبی‘‘ آتش فشاں سے خارج ہونے والی راکھ کا مملکت کی فضا پر کوئی براہ راست اثر نہیں پڑا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سینٹر جدید قومی نظاموں کے ذریعے بادلوں کی حرکت اور موسمی مظاہر کی چوبیس گھنٹے نگرانی کر رہا ہے ۔ موجودہ اشارے سعودی عرب کی فضا کی طرف راکھ کے کسی بھی راستے کو نہیں دکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ڈیٹا کی نگرانی کر رہے اور اسے اپ ڈیٹ کر رہے ہیں۔ اگر کوئی مؤثر موسمیاتی مظہر موجود ہوا تو ہم ضروری اقدامات کریں گے اور فوری طور پر متعلقہ حکام کو مطلع کریں گے۔

علاوہ ازیں نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کے سرکاری ترجمان نے یہ بھی کہا کہ سنٹر صورتحال کا تقاضا ہونے پر کسی بھی انتباہ یا تازہ ترین معلومات کو جاری رکھے گا۔ یاد رہے طویل عرصے سے خاموش پڑا ’’ ہیلی گوبی‘‘ آتش فشاں مشرقی ایتھوپیا میں اریٹیریا کی سرحد پر پھوٹ پڑا تھا جس سے گھنے دھوئیں کے بادل اور لاوے نکلے اور ہواؤں کے ذریعے مشرق کی طرف لے چے گئے اور یمن اور عمان کے وسیع علاقوں کو ڈھانپ لیا۔ یہ بادل اب ہندوستان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ دریں اثنا سلفر ڈائی آکسائیڈ گیسوں اور آتش فشاں بادلوں کی وجہ سے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران کچھ پروازوں کے راستے بدل گئے۔ پیر کو سہ پہر کنور سے ابوظہبی جانے والی ایک پرواز کو احمد آباد ہوائی اڈے پر اتارا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں