سعودی ولی عہد کی سنہ 2026ء کی بجٹ ترجیحات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت
سنہ 2026ء کی بجٹ آمدن 1.147 ٹریلین ریال، اخراجات 1.313 ٹریلین ریال:وزارت خزانہ
سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے ہدایت دی ہے کہ مملکت کے سنہ 2026ء کے بجٹ میں شامل تمام پروگراموں اور منصوبوں پر مکمل عمل درآمد کیا جائے تاکہ ویژن 2030 کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
ولی عہد نے کہا کہ ساختی تبدیلیوں نے غیر تیل شعبوں کی ترقی کی رفتار میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ ویژن 2030 کے اہداف کے حصول میں اپنا بھرپور کردار جاری رکھے گا۔
انہوں نے وزرا اور متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ اپنے اپنے دائرہ کار میں بجٹ کے تحت شامل ترقیاتی اور سماجی منصوبوں پر موثر طریقے سے عمل درآمد یقینی بنائیں اور شہریوں کی خدمت کو اولین ترجیح دیں۔
کابینہ نے بجٹ کی منظوری دے دی
سعودی کابینہ نے منگل کے روز مملکت کے سنہ 2026 ءکے بجٹ کی منظوری دی جس کے مطابق آمدنی کا تخمینہ تقریباً 1.147 ٹریلین ریال اور اخراجات 1.313 ٹریلین ریال مقرر کیے گئے ہیں۔ اس کے مطابق بجٹ خسارہ 165.4 ارب ریال رہے گا۔
سنہ 2026ء کا بجٹ سنہ 2025ء کی تخمینی بجٹ کے مقابلے میں اخراجات میں 2 فیصد اضافے پر مشتمل ہے۔
نیا بجٹ ترقیاتی وسعت کے تسلسل پر مبنی ہے اور یہ ویژن 2030 کے تیسرے مرحلے کا آغاز بھی ہے جس میں اہداف کے حصول کے لیے رفتار تیز کرنے اور عمل درآمد کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
گذشتہ ستمبر میں سعودی وزارت خزانہ نے سنہ 2026 ءکے مالی سال کے ابتدائی بیان میں بتایا تھا کہ اس سال کا تخمینی خسارہ مجموعی ملکی پیداوار کا 3.3 فیصد ہو گا۔ یہ بات اس امر کی عکاس ہے کہ حکومت اقتصادی چکر کے برعکس توسیعی اخراجاتی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور قومی ترجیحات کے مطابق ایسے منصوبوں پر توجہ دے رہی ہے جن کا سماجی اور اقتصادی اثر نمایاں ہے اور جو وژن 2030 کے اہداف اور معاشی تنوع کے حصول میں مددگار ہیں۔
بیان میں توقع ظاہر کی گئی تھی کہ سنہ 2028ء میں اخراجات بڑھ کر 1.419 ٹریلین ریال تک پہنچ جائیں گے کیونکہ گذشتہ عرصے میں متعدد پروگراموں اور منصوبوں کے تیز رفتار نفاذ نے مثبت ثمرات دیے ہیں اور حکومت کو مالی لچک فراہم کی ہے جس سے وہ حالات کے مطابق موثر ردعمل دے سکتی ہے اور اقتصادی چکر کے برعکس مالی حکمت عملی اختیار کر سکتی ہے۔