سعودی شہری کی اپنے مصری دوست سے 41 برس بعد ملاقات
پرانے خط کا پتہ مددگار، انٹرنیٹ نے فاصلے مٹا دیے
اڑتالیس سے زائد برس گذرنے کے بعد تقدیر نے دو ایسے دوستوں کو دوبارہ ملا دیا جنہیں زمانے نے ثانوی جماعت کے بعد جدا کر دیا تھا۔ مصر اور سعودی عرب کے ان دو دوستوں کی کہانی 41 برس بعد پھر سے زندہ ہو گئی جب پرانی یادوں نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا۔
سعودی شہری خالد نے اپنے مصری دوست کی بھیجی ہوئی وہ پرانی چٹھی ہمیشہ سنبھال کر رکھی تھی جس نے برسوں قبل اس کے دل کو اطمینان بخشا تھا۔ گذرتے وقت کے ساتھ خالد نے فیصلہ کیا کہ وہ ان یادوں کو محض ماضی نہیں رہنے دے گا۔ یوں پرانے خطوط کی روشنی میں اس نے تلاش کا سفر دوبارہ شروع کیا اور ایک ایسی دوستی کو پھر سے جوڑ دیا جو لمبے فاصلے اور بے شمار برسوں کے باوجود کبھی کمزور نہیں پڑی۔
خالد نے اپنے سفر کا آغاز انٹرنیٹ سے کیا اور اس خط کے لفافے پر لکھے گئے پتے کو بنیاد بنایا جو اسے 41 برس پہلے ملا تھا۔ تلاش کے دوران اسے الدقہلیہ کے اسی شہر کے ایک رہائشی سے رابطہ ہوا جس نے گمشدہ دوست تک پہنچنے میں مدد کی۔
حیرت اور جذبات سے بھرپور لمحہ
تلاش نے آخرکار انہیں ڈاکٹر مجدی علی کی کلینک تک پہنچا دیا جو امراض گردہ اور پیوند کاری کے ماہر ہیں اور جن کا نام اسی خط پر درج تھا۔ جیسے ہی خالد نے ڈاکٹر مجدی سے رابطہ کر کے پوری کہانی سنائی تو ڈاکٹر نے پرانی چٹھی دیکھ کر حیرت اور جذبات کے ملے جلے احساسات کے ساتھ برسوں پہلے کی یادوں کو جیسے ازسرنو محسوس کیا۔ چالیس برسوں کا فاصلہ اس ایک لمحے میں سمٹتا محسوس ہوا۔
ڈاکٹر مجدی نے محسوس کیا کہ جیسے ان کی زندگی کی فلم دوبارہ چل پڑی ہو۔ ان کے سامنے ایک ایسا دوست کھڑا تھا جسے انہوں نے 41 برس سے نہیں دیکھا تھا مگر جس نے پھر سے انہیں ڈھونڈ نکالا تھا۔
ڈاکٹر مجدی علی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں بتایا کہ یہ واقعہ ان کے لیے حیرت انگیز تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے سعودی عرب میں میٹرک کی تعلیم حاصل کی تھی جہاں ان کی خالد سے گہری دوستی قائم ہوئی۔ مصر واپسی کے بعد دونوں نے ایک عرصہ تک خطوط کا سلسلہ جاری رکھا جس نے فاصلے کے باوجود دوستی کا رشتہ برقرار رکھا۔
پرانی دوستی کی شمع دوبارہ روشن
مگر وقت کے ساتھ دونوں اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو گئے اور یوں 41 برس تک رابطہ منقطع رہا۔ ڈاکٹر مجدی کے مطابق انہوں نے کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ خالد اتنے برس بعد انہیں دوبارہ تلاش کرے گا اور یوں پرانی یادیں اور دوستی کی شمع دوبارہ روشن ہو جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دوبارہ رابطہ ہونے کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کی زندگی کے سفر پر طویل بات چیت کی، واقعات اور یادیں ایک دوسرے سے شیئر کیں اور یوں ان کے لیے وہ جوانی کے دن لمحہ بھر کو لوٹ آئے جنہوں نے ان کی دوستی کو ہمیشہ خاص رکھا۔