عبرانی زبان میں شائع ہونے والے اسرائیلی اخبار ''یديعوت احرونوت ''نے اپنی حالیہ اشاعت میں ایک اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ فوج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے ساتھ تعاون کی حمایت کرتی ہے اور اس کے سول مرحلے کی طرف منتقلی کی حامی ہے۔
اخبار کے مطابق عہدیدار نے بتایا کہ فوج کے اعلیٰ کمانڈرز نتن یاہو کو سفارت کاری کو ترجیح دینے اور فوج کی دوبارہ تعمیر پر توجہ مرکوز کرنے کی سفارش کر رہے ہیں۔
دو امریکی اہلکاروں اور ایک مغربی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں امن عمل کے دوسرے مرحلے کا اعلان کرنے اور کرسمس سے پہلے علاقے میں نئے حکومتی ڈھانچے کا تعین کرنے کا ارادہ کیا ہے۔
ادھر امریکی نیوز ویب Axios نے امریکی اہلکاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ بین الاقوامی استحکام فوج اور غزہ میں نئے حکومتی ڈھانچے کی تشکیل اپنے آخری مراحل میں ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اسے دو سے تین ہفتوں کے اندر عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
اس عمل میں شریک مغربی ذرائع کا کہنا ہے کہ کام آگے بڑھ رہا ہے اور ہدف یہ ہے کہ اعلان کرسمس کی تعطیلات سے پہلے ہو جائے۔
معاہدے کے دوسرے مرحلے میں غزہ کے کچھ حصوں سے اسرائیلی افواج کا اضافی انخلاء، بین الاقوامی استحکام فوج کی تعیناتی اور نئے حکومتی ڈھانچے کا نفاذ، اور ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ''کونسل آف پیس '' جیسے امور شامل ہیں۔
گذشتہ ماہ سلامتی کونسل نے بین الاقوامی فوج اور ''کونسل آف پیس ''کی منظوری دی تھی۔ امریکی اہلکاروں کے مطابق ٹرمپ کی قیادت میں ''کونسل آف پیس ''میں تقریباً 10 عرب اور مغربی ممالک کے رہنما شامل ہوں گے، جو غزہ میں نئے حکومتی ڈھانچے کے سربراہ ہوں گے۔
اس کے تحت ایک بین الاقوامی ایگزیکٹو کونسل ہو گی، جس میں سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر اور سٹیو وِٹکوف اور کونسل آف پیس میں شامل ممالک کے اعلیٰ عہدیدار شامل ہوں گے۔
تباہ شدہ علاقے کی دوبارہ تعمیر
ٹرمپ کے منصوبے کا دوسرا مرحلہ تباہ شدہ غزہ کے علاقے کی دوبارہ تعمیر پر مشتمل ہے، تاہم فنڈنگ کے ذرائع ابھی تک حتمی طور پر طے نہیں کیے گئے ہیں۔
گذشتہ روز حماس نے اعلان کیا کہ اس نے غزہ کی حکومت کے لیے ٹیکنوکریٹس کمیٹی کے قیام پر اتفاق کر لیا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ وہ علاقے پر حکمرانی کے لیے اصرار نہیں کرے گی۔ اس سے قبل حماس نے واضح کیا تھا کہ اسلحے کا معاملہ قومی سطح پر اور داخلی مذاکرات کے دائرے میں زیرِ بحث ہے۔