بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے جنوبی صوبوں میں سکیورٹی کی تازہ ترین صورتحال کے تناظر میں یمن کے لیے آرٹیکل فور مشاورت پر بات چیت کے لیے مختص اپنے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا اچانک فیصلہ کرلیا۔
یہ فیصلہ بین الاقوامی برادری کی حمایت یافتہ اقتصادی اصلاحات کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ میڈیا پلیٹ فارم "یمن فیوچر" نے واشنگٹن میں ایک اقتصادی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ یہ فیصلہ فنڈ کے اندر کئی حلقوں کی سفارشات پر مبنی ہے جو مشرقی صوبوں میں حالیہ سکیورٹی پیش رفت پر پہلا سخت بین الاقوامی ردعمل ہے۔ اس رد عمل سے حکومت اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی مرکزی بینک کی زیر قیادت اقتصادی بحالی کے پروگرام کو ایک نیا دھچکا لگے گا۔
ذریعے نے بتایا کہ یہ فیصلہ آئندہ اطلاع تک نافذ العمل رہے گا۔ یہ فیصلہ مشرقی صوبوں میں یکطرفہ کشیدگی کے ایک دن بعد اس وقت آیا ہے جب جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی ) نے حضرموت اور المہرہ صوبوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایک فوجی مہم شروع کی ہے اور اس مہم کی وجہ سے صدارتی کونسل کے اجزاء کے درمیان شدید بحران اور سکیورٹی کی صورتحال میں تناؤ پیدا ہوگیا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب حکومت مالیاتی اور مانیٹری اصلاحات کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے بین الاقوامی اداروں کی حمایت پر انحصار کر رہی تھی۔
یہ پیشرفت آئی ایم ایف کی جانب سے گزشتہ اکتوبر میں صنعا اور شمالی یمن کے بیشتر شہروں پر حوثی گروپ کے کنٹرول کے بعد تقریباً 11 سال کے وقفے کے بعد یمن میں اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔