براک لبنان اور شام میں تناؤ کم کرنے کی کوششوں میں مصروف، تل ابیب جانے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی سفیر ٹام براک کل پیر کو تل ابیب کا دورہ کریں گے تاکہ لبنان اور شام میں اسرائیلی کشیدگی کو روکا جا سکے۔

اسرائیلی چینل 12 نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ براک اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتنیاہو سے ملاقات کریں گے تاکہ لبنان میں کشیدگی کو روکنے اور شام میں مفاہمت کے لیے بات چیت کی جا سکے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ نیتن یاہو نے براک سے ملاقات کی وجہ سے اپنے اگلے پیر کی عدالتی سماعت منسوخ کرنے کی درخواست کی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شام کے امور کے خصوصی ایلچی باراک کا یہ دورہ غزہ میں 20 نکاتی امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کی تیاری کے لیے سیاسی اور سکیورٹی مذاکرات میں تیزی کے دوران ہو رہا ہے۔

انتباہی پیغامات

لبنانی وزیر خارجہ یوسف رجب نے چند روز قبل تصدیق کی تھی کہ لبنانی حکام کو اسرائیل کی ممکنہ وسیع فوجی کارروائی کے حوالے سے انتباہی پیغامات موصول ہوئے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھاکہ لبنان اپنے سفارتی رابطے بڑھا رہا ہے تاکہ ریاست اور اس کے اداروں کو محفوظ رکھا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ نہر لیتانی کے جنوب میں 2025 کے آخر تک غیر قانونی اسلحہ نہ ہو، لبنان کی فوج 2026 تک ملک کے تمام علاقوں میں اسلحے کی رجسٹریشن مکمل کرے۔یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب اسرائیل جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے، دعویٰ کرتے ہوئے کہ وہ حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

اسرائیل کی لبنان پر بمباری جاری ہے حالانکہ نومبر 2024 سے امریکی و فرانسیسی ثالثی کے تحت جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہے، جس کے بعد حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ایک سال پہلے ہونے والی خونریز جھڑپوں کے بعد حزب اللہ کمزور ہوا تھا۔

لبنانی حکومت نے اسلحے کے انحصار کو ختم کرنے اور اسے صرف ریاست کے کنٹرول میں رکھنے کےلیے منصوبہ بنایا ہے، لیکن اسرائیل تب سے اپنی بمباری جاری رکھے ہوئے ہے اور پانچ سے زیادہ مقامات سےیہ کہہ کر کہ حزب اللہ اپنی فوجی صلاحیتیں دوبارہ مضبوط کر رہا ہے۔اسرائیل وہاں سے واپس نہیں ہوا۔

بڑھتی ہوئی رکاوٹیں

شام کے معاملے میں بھی اسرائیلی فوج جنوب ملک میں تقریباً روزانہ داخلے جاری رکھے ہوئے ہے۔ پچھلے سال سابق شامی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے جنوبی شام میں فوجی دستے اور سازوسامان تعینات کیے، جو 1974 کے طے شدہ حفاظتی علاقے سے تجاوز کرتے ہیں، بشمول جبل شیخ میں اسٹریٹجک نگرانی کا نقطہ۔

جنوبی لبنان سے: رائیٹرز فوٹو
جنوبی لبنان سے: رائیٹرز فوٹو

نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ وہ دمشق سے جبل شیخ تک ایک غیر مسلح علاقہ قائم کرنا چاہتے ہیں، جسے شام نے مسترد کر دیا۔اب تک امریکی ثالثی میں سوری اور اسرائیلی حکام کے درمیان چھ مذاکرات کے دور کے باوجود سرحدی علاقے میں استحکام کے لیے کوئی سکیورٹی معاہدہ نہیں ہو سکا اور مذاکرات ستمبر 2025 سے رک گئے ہیں، جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا۔

چند روز قبل اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے کہا کہ دمشق کے ساتھ جاری سکیورٹی مذاکرات میں بڑھتی ہوئی رکاوٹیں سامنے آ رہی ہیں، انہوں نے تصدیق کی کہ شامی فریق کے نئے مطالبات نے دونوں جانب کے درمیان فاصلہ بڑھا دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں