اضطراب اور نیند کی کمی سے قوتِ مدافعت متاثر ہوتی ہے:سعودی سائنسی تحقیق
سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ میں طیبہ یونیورسٹی کی ایک سائنسی تحقیق نے پریشانی اور بے خوابی کے انسانی مدافعتی نظام پر اثرات کا انکشاف کیا، خاص طور پر "قدرتی قاتل خلیات" (NK cells) پر جو انسانی جسم کی بنیادی دفاعی لائن ہیں۔
تحقیق کا نمونہ 17 سے 23 سال کی طالبات پر مرکوز تھا، جس کی بنیاد پچھلے مطالعات پر تھی جن میں لڑکیوں میں لڑکوں کے مقابلے میں پریشانی کی شرح زیادہ دیکھی گئی تھی۔
محققہ ڈاکٹر رناد الحماوی نے ''العربیہ ڈاٹ نیٹ '' کو بتایا کہ اس عمر کے طالبات کے انتخاب کی وجہ یہی تھی کہ اس گروپ میں پریشانی کی شرح زیادہ تھی۔ تحقیقاتی ٹیم نے ابتدائی مطالعے کے لیے خواتین پر توجہ مرکوز کی۔
الحماوی کے مطابق پریشانی اور بے خوابی نے قدرتی قاتل خلیات (NK cells) کی تعداد اور ذیلی اقسام کی شرح پر اثر ڈالا۔
مطالعے میں ان طالبات میں ان خلیات کی تعداد اور تناسب میں واضح کمی دیکھی گئی جو بے خوابی اور پریشانی کی علامات سے متاثر تھیں، جبکہ وہ طالبات جن میں یہ علامات نہیں تھیں، ان کے خلیات کی سطح معمول کے مطابق تھی۔
دلچسپ تعلق: آنت اور مدافعتی نظام
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ انسانی آنت اور مدافعتی نظام کا تعلق براہِ راست ذہنی کیفیت سے متاثر ہوتا ہے، یعنی دماغی اور جذباتی حالات انسانی جسم کی دفاعی صلاحیت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
فیصد اور اعداد و شمار
اسی سلسلے میںالحماوی نے بتایا کہ 75 فیصد شریک خواتین نے پریشانی کی علامات ظاہر کیں، جبکہ 53 فیصد نے بے خوابی کی علامات رپورٹ کیں۔
مطالعے میں قدرتی قاتل خلیات (NK cells) کی سطح میں واضح کمی دیکھی گئی، جس کا عمومی مدافعتی نظام پر اثر پڑتا ہے۔ اس نتیجے کے پیش نظر مستقبل میں ایسے مطالعات کی ضرورت ہے جو ان خلیات کے فنکشنل خصائص کو صحت مند افراد اور پریشانی و بے خوابی کی علامات رکھنے والے افراد میں جانچیں، تاکہ مدافعتی نظام پر ان کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
خلیات کی اقسام اور افعال
قدرتی قاتل خلیات کی دو اہم اقسام CD16+CD56dim اور CD16+CD56high کی اہمیت کے بارے میں الحماوی نے بتایا:CD16+CD56dim خلیات: یہ وائرس سے متاثرہ خلیات اور کینسر خلیات کے خلاف براہِ راست خلیاتی ردعمل میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔CD16+CD56high خلیات: یہ سائٹوکائنز کے اہم ماخذ ہیں جو مدافعتی ردعمل کو منظم کرتے ہیں۔مطالعے میں دیکھا گیا کہ پریشانی کی علامات رکھنے والی شریک خواتین میں دونوں اقسام کی تعداد اور تناسب میں کمی ہوئی، جس کے نتیجے میں براہِ راست اور منظم مدافعتی ردعمل کمزور ہو سکتا ہے۔
پریشانی کی شدت اور مدافعت
تحقیق میں یہ بھی واضح ہوا کہ پریشانی کی شدت جتنی زیادہ، قدرتی قاتل خلیات کی تعداد اور تناسب اتنا ہی کم ہوتا ہے، خاص طور پر وہ لڑکیاں جو بے خوابی کا شکار ہیں۔ متوسط اور شدید حالتوں میں خلیات کی کمی کے فرق بھی نمایاں تھے۔
تحقیق کی سفارشات
الحماوی نے تحقیقاتی ٹیم کی سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں وسیع پیمانے پر مطالعے کیے جائیں، جو مرد و خواتین اور مختلف عمر کے گروپوں پر مشتمل ہوں۔ ٹیم نے یہ بھی سفارش کی کہ مختلف مدافعتی خلیات (ان کا تناسب، تعداد اور افعال) کا مطالعہ کیا جائے اور انہیں پریشانی اور بے خوابی کی شرحوں کے ساتھ جوڑا جائے تاکہ مدافعتی نظام پر ان کے اثرات کو گہرائی سے سمجھا جا سکے۔