بین الاقوامی سطح پر بھوک اور قحط کو مانیٹر کرنے والے ادارے 'آئی پی سی' کا کہنا ہے کہ غزہ میں انسانی و تجارتی بنیادوں پر خوراک کی فراہمی بہتر ہوئی ہے اور اس بہتری کی وجہ 10 اکتوبر سے شروع ہونے والی پہلے مرحلے کی جنگ بندی بنی ہے۔ جو اب تیسرے ماہ میں داخل ہے۔ 'آئی پی سی' کی طرف سے یہ بات جمعہ کے روز بتائی گئی ہے۔
اس ادارے کے مطابق غزہ میں قحط اور بھوک کے حوالے سے تازہ جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حالیہ چند مہینوں میں غزہ فوڈ سیکیورٹی کے ایک مربوط مرحلے سے متعارف ہو گیا ہے۔ جہاں اس سے پہلے 5 لاکھ 14 ہزار لوگ قحط کی زد میں تھے۔ یہ آبادی غزہ کے رہنے والوں کی تقریبا ایک چوتھائی پر مشتمل تھی۔
تاہم 'گلوبل ہنگر مانیٹر' کے مطابق خوراک کے حوالے سے اب بھی صورتحال ایسی اچھی نہیں ہے کہ جسے سب اچھا کہا جا سکے۔
'آئی پی سی' نامی ادارے کے مطابق ایک بدترین منظر کے مطالعہ کے بعد جس میں بار بار تجدید ہوتی دشمنی کا ماحول بصورت جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے شامل ہے، اسی طرح انسانی بنیادوں پر اور تجارتی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی خوراک کو بار بار روکا جاتا ہے۔
اگر اس صورتحال میں دیکھا جائے تو غزہ کی پٹی اپریل 2026 میں ایک بار پھر قحط کی زد میں آسکتی ہے۔ کیونکہ ابھی بھی انسانی بحران جاری ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تمام خوراک کی فراہمی و رسائی کے امکانات اب تک اسرائیل کے کنٹرول میں ہیں۔
اسرائیلی فوج کے سول ادارے 'کوگیٹ' کو خوراک کی ترسیل کی اجازت دینے اور روکنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس وجہ سے ماہ اگست میں قحط کی جو صورتحال تھی البتہ اس میں بہتری آگئی ہے۔
'کوگیٹ' کا کہنا ہے کہ اب ہر روز 600 سے 800 ٹرک غزہ میں داخل ہو رہے ہیں اور یہ سلسلہ 10 اکتوبر کے بعد بہتری کی طرف چلا ہے۔ جس کے نتیجے میں خوراک کی 70 فیصد ضرورت پوری ہو رہی ہے۔
حماس 'کوگیٹ' اور اسرائیلی فوج کے ان اعداد و شمار کو درست قرار نہیں دیتا اور اس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج 600 ٹرک یومیہ سے کہیں کم تعداد کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دیتی ہے۔ جبکہ غزہ کے لوگوں کو اس سے کہیں زیادہ خوراک کی ابھی بھی ضرورت ہے۔ جبکہ اسرائیل جس چیز کو چاہتا ہے روک دیتا ہے۔ اسرائیل اس امر کی تردید کرتا ہے۔
'آئی پی سی' کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا اب قحط کی صورتحال نہیں مگر خوراک کے حوالے سے بحران ابھی جاری ہے۔
اس رپورٹ میں پچھلے 15 برسوں میں آنے والے 5 قحطوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ جن میں صومالیہ کا 2011 کا قحط جنوبی سوڈان میں 2017 اور 2020 کا قحط ، سوڈان میں 2024 کا قحط اور سب سے تازہ ترین قحط غزہ میں حالیہ مہینوں یعنی اگست میں سامنے آیا۔
علاقے میں قحط کی درجہ بندی کے لیے جو پیمانہ طے کیا جاتا ہے اس میں کم از کم 20 فیصد لوگ خوراک کی قلت کا انتہائی طور پر سامنا کر رہے ہوں۔ جبکہ 3 بچوں میں سے ایک بچہ غذائی قلت کا شکار ہو کر مختلف عوارض کا نشانہ بن رہے ہیں اور 1000 لوگوں میں سے 2 یومیہ بھوک اور خوراک کی قلت کے باعث لقمہ اجل بن رہے ہوں تو اسے قحط کا نام دیا جاتا ہے۔
'آئی پی سی' نے جمعہ کے روز کہا اس وقت کوئی ایسا علاقہ نہیں جہاں یہ صورتحال موجود ہو۔ اگرچہ ایسی صورتحال ضرور ہے جسے خوراک فراہمی کے حوالے سے کمزور اور پریشان کن کہا جا سکتا ہے۔
'آئی پی سی' کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ادارہ اس چیز کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ گھریلو ضروریات کی کمی اب بھی موجود ہے۔ جس کو تباہ کن قرار دیا جا سکتا ہے۔ جسے خوراک کی انتہائی کمی کی حالت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ بھوک اور خطرناک حد تک بڑھنے والے خدشات غذائی قلت کے سبب ہونے والی اموات سب اس کا حصہ ہوتی ہیں۔
'آئی پی سی' نے جمعہ کے روز کہا ہے اس وقت بھی غزہ میں ایک لاکھ سے زائد لوگ خوراک کے اعتبار سے تباہ کن صورتحال سے گزر رہے ہیں لیکن اس میں اپریل 2026 میں مزید کمی ہو کر تقریبا 1900 کی تعداد رہ جائے گی۔
پورے غزہ کی پٹی ایک ہنگامی صورتحال سے گزر رہی ہے جو تباہ کن صورتحال سے محض ایک قدم پیچھے ہے۔
اگلے 12 ماہ میں خدشہ ہے کہ پورے غزہ کی پٹی پر تقریباً ایک لاکھ ایک ہزار بچے جن کی عمر 6 ماہ سے زائد اور 5 سال کم ہوگی انہیں غذائی قلت اور علاج معالجے کی سہولتوں کی قلت کا سامنا رہے گا اور ان ایک الکھ ایک ہزار بچوں میں سے 31 ہزار ایسے ہوں گے جو شدید نوعیت کے کیسز کی حیثیت رکھتے ہوں گے۔
اسی دورانیے میں 37 ہزار حاملہ خواتین اور بچوں کو دودھ پلانے والی خواتین بھی غذائی قلت کا سامنا کر رہی ہوں گی اور علاج معالجے کی سہولیات سے بھی ابھی بہت دور ہوں گی۔
غذائی قلت کا شکار بچے جنہیں جنوبی غزہ کے ناصر ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے ان کے ڈاکٹروں کو خوف ہے کہ 4 سالہ ارجوان الدہائینی اور 6 سالہ یاسر عرفات دونوں بچوں کی حالت غذائی قلت کی وجہ سے انتہائی نازک ہے اور ان کی زندگیاں خطرے کی سطح پر ہیں۔ یہ بات ناصر ہسپتال کے ڈاکٹر احمد الفراء نے بتائی ہے۔
ارجوان کی والدہ حنین نے کہا یہ بچہ جنگ سے پہلے بالکل ایسا نہیں تھا۔ یہ صحتمند اور توانا تھا۔ جب وہ اس کے ساتھ کھیلتی تھی اور یہ اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ بھی خوب بھاگتا دوڑتا تھا لیکن جب سے خاندان کو جنگ کے دوران خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہوا ارجوان کا وزن آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہوا اور اب تک یہ اپنا آدھا وزن کھوچکا ہے۔
انہوں نے کہا میرے شوہر کا بازو کاٹ دیا گیا تھا اور اب ہمارے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ موجود نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایسا فرد موجود ہے جو خوراک کا بندوبست کر سکے۔ اس لیے میں اکیلی اپنے بچوں اور خاص طور پر ارجوان کی صحت و خوراک کے حوالے سے ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہوں۔ جو کچھ ہمیں مل رہا ہے وہ بھی بہت مشکل سے مل رہا ہے۔
ڈاکٹر الفراء نے بتایا کہ عرفات کا ایک بھائی پہلے ہی غذائی قلت کی وجہ سے فوت ہو چکا ہے اور اس کا والد بھی غذائی قلت کی وجہ سے بری حالت میں ہے۔
یاسر عرفات کی والدہ ایمان نے کہا ہمارا خاندان اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ انڈے خرید سکے اور بچوں کی پروٹین کی ضرورت کے لیے کچھ کر سکے۔ اس لیے میرا بچہ اب اس حالت میں نہیں رہا کہ وہ دوسرے بچوں کے ساتھ بھاگے دوڑے۔ اس وجہ سے اس کا قد بھی اب بڑھنے سے رک گیا ہے۔
الشفاء پسپتال کے سربراہ محمد ابو سلمہ نے کہا ادویات کی سائیڈ پر کچھ بہتری آئی ہے تاہم غذائی قلت کا مسئلہ ابھی بھی اپنی جگہ پر موجود ہے۔
وزارت صحت نے 6 ہزار ایسے بچوں کی نشاندہی کی ہے جو غذائی قلت کا شکار ہیں۔ ان میں سے ایک ہزار زیادہ برے حال میں ہیں جبکہ ایک سو بچوں کو ہسپتال میں داخلے کی فوری ضرورت ہے۔
ڈاکٹر محمد ابو سلمہ نے 'روئٹرز' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اگر جاری غذائی قلت کو دیکھا جائے اور قحط والے حالات کو تو صاف نظر آتا ہے کہ صورتحال میں کوئی بڑی بہتری نہیں آئی ہے۔ اب بھی خوراک اور ادویات کی غزہ تک رسائی آسان نہیں ہے۔ غذا کی یہ قلت سب سے زیادہ خواتین کو متاثر کر رہی ہے اور بچوں کو۔ علاوہ ازیں بوڑھی عمر کے لوگ بھی غذائی قلت کے اثرات سے متاثر ہو رہے ہیں۔
اس صورتحال میں نومولود بچوں کی حالت اور صحت انتہائی قابل رحم ہوتی ہے اور ان کے مستقبل سے بہت سے خدشات پہلے دن سے جڑ جاتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خوراک پروگرام کے حکام کا کہنا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے میں خوراک کی کچھ بہتری کی نشاندہی ہوتی ہے۔ تاہم حقیقت یہی ہے کہ اب بھی آبادی کا بڑا حصہ بمشکل ہی دو وقت کا کھانا حاصل کر رہا ہے۔
ان حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے کہ ہم غزہ کے لوگوں کے لیے خوراک کی فراہمی کی رفتار کو بہتر کریں۔ یہ خوراک انسانی بنیادوں پر ملے یا تجارتی بنیادوں پر۔
اقوام متحدہ اور امدادی گروپوں کا یہ انتباہ بدھ کے روز بھی سامنے آیا ہے کہ غزہ میں امداد کی تقسیم اور خوراک کی ترسیل کے حوالے سے آپریشن ہمہ وقت خطرے میں ہے اور کسی بھی وقت مکمل روکے جا سکتے ہیں۔
بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی کے زوئی ڈینیئل کا کہنا ہے کہ اشیاء کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اسے خرید نہیں سکتے اور یہ موجود رہ کر بھی لوگوں کے لیے غیر موجود رہتی ہے۔
لوگوں کا انحصار عام طور پر ڈبوں میں بند خوراک پر ہے جو پہلے سے پکا کر ان ڈبوں میں بند کی جاتی ہے اور اس خوراک کی عذائی اعتبار سے وہ حالت نہیں ہوتی جو غذائی قلت کے شکار لوگوں کو جلدی سے اس صورتحال سے نکال سکے۔