مسقط معاہدے کی کامیابی میں سعودی عرب نے اہم کردار ادا کیا : سربراہ یمنی حکومتی وفد

ریاض نے اس اقدام کو ایک اہم انسانی اقدام قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یمنی حکومت کے وفد کے سربراہ ہادی الہیج نے "العربیہ" سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ مسقط معاہدے کی کامیابی میں سعودی عرب نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں یمنی حکومت اور حوثیوں نے فریقین کے 2900 زیر حراست اور اغوا شدہ افراد کی رہائی کا اعلان کیا ہے۔

اسی دوران ہادی الہیج نے اشارہ کیا کہ یمنی حکومت نے حوثیوں کے ساتھ قیدیوں کی میتوں کے تبادلے کے مرحلے کے اصولوں پر بھی اتفاق کر لیا ہے۔ یمن میں تنازع کے فریقین نے گذشتہ روز سلطنت عمان میں بارہ روزہ اجلاس کا اختتام کیا، جس کے ساتھ ہی تنازع کے تناظر میں تمام فریقین کے زیرِ حراست افراد کی رہائی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے۔ دوسری جانب خصوصی ایلچی کے دفتر نے انسانی اصولوں کے مطابق مذکورہ افراد کے تبادلے کے معاہدے پر عمل درآمد کی سہولت فراہم کرنے کا عزم دہرایا ہے۔

کل جاری ہونے والے اقوام متحدہ کے بیان میں واضح کیا گیا کہ "مسقط معاہدے" تک پہنچنا ایک مثبت اور اہم قدم ہے، کیونکہ اس سے یمن کے مختلف حصوں میں زیر حراست افراد اور ان کے اہل خانہ کی مشکلات میں کمی آئے گی۔

دریں اثنا سعودی عرب کی جانب سے مسقط معاہدے کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ ریاض نے یمنی حکومت اور حوثی گروپ کے درمیان قیدیوں اور زیر حراست افراد کے تبادلے کے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے جس پر آج عمانی دارالحکومت مسقط میں فریقین نے دستخط کیے۔ بیان میں اس معاہدے کو ایک اہم انسانی قدم قرار دیا گیا ہے، کیونکہ یہ انسانی تکالیف کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا اور اعتماد سازی کے مواقع کو فروغ دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں