ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ لبنانی فوج نے انہیں شبرونیہ کے علاقے میں واقع بڑے سرحدی دریا کی طرف جانے پر مجبور کیا، جبکہ علاقے میں شدید سیلاب کی صورتحال جاری تھی، جیسا کہ شامی ٹیلی ویژن نے رپورٹ کیا۔
5 بچوں کی ہلاکت
دفاع مدنی کی ٹیموں نے ایک مرد اور دو خواتین کو بچانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ جبکہ لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کے لیے شامی فوج کے ساتھ ہم آہنگی میں تلاش جاری ہے، جن میں ایک بزرگ شخص، دو خواتین اور پانچ بچے شامل ہیں۔
منیر قدور ڈائریکٹر دفاع مدنی تلکلخ حمص کے نواح میں نے العربیہ/الحدث کو بتایا کہ شبرونیہ کے علاقے میں بڑے دریا میں 11 شامی شہری لبنان جانے کی کوشش کے دوران ڈوب گئے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان میں سے تین افراد ڈوبنے سے بچ گئے، یہ غیر قانونی اسمگلنگ کا سفر تھا جو اکثر ان سرحدی علاقوں میں اسمگلروں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
جريمة يرتكبها الجيش اللبناني بحق 5 أطفال سوريين وسيدتين ورجل مسن..
— قتيبة ياسين (@k7ybnd99) December 28, 2025
فجر اليوم غرق 11 مواطن سوري معظمهم أطفال أثناء الترحيل القسري من لبنان إلى سوريا عبر نهر حدودي بعد أن أجبرهم الجيش اللبناني على التوجه نحو مجرى النهر رغم الفيضانات التي تجري فيه بسبب الأمطار الغزيرة، توجهت فرق… pic.twitter.com/XaTkeIWjq6
لبنانی فوج کی تردید
اس کے برعکس لبنانی فوج نے شامی مہاجرین کو واپس جانے پر مجبور کرنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔ فوج نے ایک بیان میں کہا کہ اس کی عسکری یونٹس نے مذکورہ علاقے میں مداخلت نہیں کی کیونکہ وہاں غیر قانونی عبور کی کسی کوشش کے بارے میں کوئی معلومات موصول نہیں ہوئیں۔
فوج نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کے اہلکاروں نے کسی کو دریا کے راستے واپس جانے پر مجبور نہیں کیا اور یہ کہ وہ شامی حکام کے ساتھ ہم آہنگی میں ڈوبنے والے افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تاہم لبنانی وضاحت سے پہلے یہ خبر سوشل میڈیا پر لبنانی اور شامی دونوں سرگرم صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا سبب بنی، جنہوں نے لبنانی فوج پر اندھیرے میں مہاجرین کو نکالنےکا الزام عائد کیا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ شام کے سابق نظام کے سقوط کے بعد 8 دسمبر 2024 سے لبنان میں سینکڑوں شامی مہاجرین رضاکارانہ طور پر واپس لوٹے ہیں، یہ واپسی اقوام متحدہ کی جانب سے لبنانی حکام کے ساتھ منصوبہ بندی کے تحت ہوئی۔لبنانی حکومت کے نائب صدر طارق متری نے پہلے العربیہ ڈاٹ نیٹ/الحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا تھا کہ شام کے مہاجرین کی وطن واپسی کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے سرحدوں کو دونوں جانب سے کنٹرول کرنے کے لیے حفاظتی اقدامات کا بھی ذکر کیا، تاکہ غیر قانونی داخلے کو محدود کیا جا سکے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ وزارت محنت نئے سال کے آغاز کے ساتھ شامیوں کے لیے ورک پرمٹس کی نگرانی سخت کرے گی۔ انھوں نے مزید کہاجب زیادہ تر شامی اپنے ملک واپس چلے جائیں گے تو یہ عمل قوانین کے مطابق زیادہ منظم اور باقاعدہ ہوگا، بغیر کسی جھڑپ یا تشدد کے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنری برائے پناہ گزینوں نے چند ماہ قبل اعلان کیا تھا کہ سابق نظام کے سقوط کے بعد تقریباً ایک ملین شامی اپنے وطن واپس جا چکے ہیں۔ اس نے تصدیق کی کہ اردن، لبنان، مصر اور عراق میں موجود شامی پناہ گزینوں میں سے 80 فیصد مستقبل میں اپنے وطن واپس جانا چاہتے ہیں، جن میں سے 18 فیصد اگلے سال واپسی کے خواہاں ہیں۔