بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والی طبی خیراتی تنظیم ایم ایس ایف المعروف ' ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز ' نے اسرائیل کی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اسے غزہ میں انسانی بنیادوں پر کام کرنے کی اجازت دی جائے۔
'ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز' کے نام سے دنیا بھر میں مظلوموں اور جبر سے بے بس کر دیے گئے انسانوں کی بھلائی کے لیے کام کرنے والے اس بین الاقوامی ادارے نے اسرائیل سے یہ اپیل سال 2025 کے اواخر پر کی ہے کہ اسے 2026 کے دوران غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کے بے بس اور بے گھر کر دیے گئے لاکھوں فلسطینیوں کی خدمت کی اجازت دی جائے۔ انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے اس ادارے نے سال 2025 کے اواخر میں بدھ کے روز ایک بار پھر اپیل کی ہے۔ تاکہ لاکھوں فلسطینیوں کی اس بے بسی کے دنوں میں سال 2026 میں خدمت اور مدد کر سکے۔
مغربی خبر رساں ادارے ' اے ایف پی ' کے مطابق 'ایم ایس ایف'نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ 'ایم ایس ایف' اور دوسری بین الاقوامی تنظیموں کو کام کرنے کی اجازت دے جو اسرائیل میں بھی رجسٹرڈ ہیں۔
یاد رہے اسرائیلی انتظامیہ یکم جنوری سے ہی غزہ میں 'ایم ایس ایف' سمیت 37 دیگر انسانی امداد کے گروپوں پر پابندی لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اسرائیل نے انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے ان ادروں سے کہا ہے کہ یہ فلسطینیوں کا ڈیٹا اس کے ساتھ شیئر کریں تاکہ وہ اس ڈیٹا کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہے۔تاہم این جی اوز کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا اسرائیل کو فراہم کرنے کا مطلب ان فلسطینیوں کے لیے مصائب کے نئے دروازے کھولنے کے مترادف ہو سکتا ہے ۔ ویسے بھی یہ انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے اداروں کی اقدار کے منافی ہے۔
یاد رہے بدھ کے روز اسرائیل نے اس بین الاقوامی ادارے کی انسانی بنیادوں پر غزہ اور مغربی کنارے میں کام کرنے کے لیے پہلے سے موجود رجسٹریشن ختم کرنے کا کہہ رکھا ہے۔ اسی تناظر میں 'ایم ایس ایف' نے اسرائیلی انتظامیہ سے یہ اپیل کی ہے کہ اسے کام کرنے سے نہ روکا جائے۔ تاہم اسرائیل کا اصرار ہے کہ یہ ادارے فلسطینیوں کا ڈیٹا فراہم کرکے بالواسطہ انداز میں اسرائیل کے لیے مخبری کا کام کریں۔ بصورت دیگر یہ سال 2026 کے دوران فلسطینی عوام کو یکم مارچ سے علاج معالجے کی خدمات نہیں دے سکیں گی۔
اسرائیل کی انتظامیہ این جی اوز پر بھی الزام لگاتی رہتی ہے کہ یہ مسلح فلسطینیوں کی ساتھی ہیں۔ اس سے قبل یہ الزام اقوام متحدہ کے ادارے 'انروا' پر بھی اسرائیل کی طرف سے لگا کر اس پر پابندیاں لگائی گئی تھیں۔