غزہ : اسرائیل کے حمایت یافتہ جنگجووں نے دو حماس کارکنوں کو ہلاک اور ایک کو گرفتار کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل کے حمایت یافتہ جنگجووں نے بدھ کے روز جنوبی غزہ میں حماس کے دو کارکنوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

اسرائیل جس کے ساتھ 10 اکتوبر 2025 سے جنگ بندی معاہدہ ہو چکا ہے کی طرف سے حماس کے لیے آئے روز کی بمباری کے بعد یہ ایک نیا چیلنج بن سکتا ہے کہ اسرائیلی فوج اپنی موجودگی میں حماس کے خلاف جنگجووں کو متحرک کر رہی ہے۔

اسرائیل کے حامی ان فلسطینی جنگجووں کا گروپ 'پاپولر فورس' کے نام سے مشہور ہو رہا ہے۔ اسی گروپ سے وابستہ جنگجووں نے بدھ کے روز حماس کارکنوں کو ہلاک کیا ہے۔

'پاپولر فورس' کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے رفح کے علاقے میں ان دو حماس کارکنوں کو ہلاک کیا جنہوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا تھا۔ جبکہ تیسرے حماس کارکن کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
حماس نے اسرائیل کے حامی جنگجووں کے اس دعوے پر تبصرے سے انکار کیا ہے۔

دوسری جانب مغربی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کو آزاد ذرائع سے ابھی اس واقعے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

رفح جنوبی غزہ کے انتہائی جنوب میں مصری سرحد کے ساتھ جڑا ہوا گنجان آبادی کا علاقہ ہے جو ان دنوں اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے۔

پچھلے ماہ دسمبر میں اسرائیل کی حمایت کرنے والے سب سے اہم جنگجو فلسطینی ابو شباب کو قتل کر دیا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں کہا گیا وہ کسی خاندانی جھگڑے کی نذر ہوئے۔

اکتوبر 2025 سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے حماس کے خلاف فلسطینی جنگجووں کی ایک نفری بھرتی کی جا رہی ہے۔ تاکہ عبوری حکومت کے دوران غزہ میں حماس کی جگہ ان جنگجووں کو فلسطینی نمائندے کے طور پر پیش کیا جا سکے۔

دوسری جانب حماس غیر مشروط طور پر ہتھیار چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے اور اسرائیل کے ان پسندیدہ فلسطینی جنگجووں کے علاوہ فلسطینیوں میں اس کا اثر رسوخ کم نہیں کیا جا سکا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ اب بھی حماس کی کمانڈ میں ہزاروں فلسطینی موجود ہیں۔ تاہم اسرائیل کا نصف غزہ پر کنٹرول باقی ہے۔ لیکن اب بھی بعض ایسے علاقے ہیں جہاں اس کا پہنچنا آسان نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ کی ٹائم مینجمنٹ شپ کی وجہ سے غزہ میں معاملہ کو آہستگی کے ساتھ ڈیل کیا جا رہا ہے۔ اس لیے ابھی ایسی علامات نہیں ہیں کہ غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلاء قریب نظر آئے۔

مزید یہ کہ جنگ بندی معاہدے کا دوسرا مرحلہ بھی ابھی عملدرآمد سے کافی دور نظر آتا ہے۔ اسرائیلی ریاست کے وزیراعظم پہلے ہی یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ وہ غزہ میں ماہ جون سے اس کوشش میں ہیں کہ حماس کے خلاف ایسے فلسطینیوں کو منظم کیا جائے جو اسرائیل کے لیے کام کر سکتے ہوں اور حماس کے خاتمے میں اسرائیل کو مدد دے سکتے ہوں۔

تاہم جنگجووں کا یہ نیا گروپ 'پاپولر فورس' اس امر کی تردید کرتا ہے کہ اسے اسرائیل سے کوئی مدد دی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں