یمن میں سعودی سفیر محمد آل جابر نے کہا ہے کہ ریاض میں جنوبی مسئلے پر کانفرنس کے لیے سعودی عرب کی سرپرستی فعال جنوبی شخصیات اور قائدین کو بغیر کسی امتیاز یا اخراج کے اکٹھا کر رہی ہے۔
یہ کانفرنس ریاض کی اس خواہش کے فریم ورک میں ہے کہ جنوبی مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے ایک جامع تصور تک پہنچا جائے جو اہل جنوب کی مرضی اور ان کی خواہشات کی تکمیل کو یقینی بنائے تاکہ اس سے یمن میں جامع سیاسی مکالمے کی میز پر پیش کرنے اور بحث کرنے کی راہ ہموار ہو۔
محمد آل جابر نے کونسل کے خاتمے کے فیصلے پر سعودی اطمینان کا اظہار کیا اور "ایکس" پر لکھا کہ عبوری کونسل کے قائدین کے کونسل کو ختم کرنے کے بہادرانہ فیصلے نے جنوبی مسئلے کے مستقبل کے لیے ان کی حرص کی تصدیق کی ہے نہ کہ ذاتی مفاد کے حصول کی۔ اسی طرح مملکت کی سرپرستی میں مکالمے کے آپشن کا ان کا انتخاب کانفرنس کے انعقاد اور اس کے نتائج کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرے گا۔
گزشتہ روز محمد آل جابر نے جنوبی عبوری کونسل کے اس وفد ، جو سعودی دارالحکومت ریاض پہنچا تھا، کے ساتھ جنوبی مسئلے سے متعلق سیاسی پیش رفت اور اسے حل کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ محمد آل جابر نے ریاض کا دورہ کرنے والے عبوری کونسل کے وفد کے ساتھ عیدروس الزبیدی کی ہدایت پر کونسل کی نقل و حرکت پر بات کی۔ ان نقل و حرکت کو انہوں نے اس طرح بیان کیا کہ انہوں نے جنوبی مسئلے کے ساتھ برا سلوک کیا اور اسے فائدہ نہیں پہنچایا اور دشمنوں کے مقابلے میں صفوں کے اتحاد کو نقصان پہنچایا ہے۔
سعودی سفیر اور عبوری کونسل کے ارکان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں جنوبی مسئلے کے حل کے طریقے تلاش کرنے پر بھی بات چیت کی گئی۔ اس کے علاوہ یمن میں امن و استحکام کے حصول کے لیے اتحاد کی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ مذاکرات میں جنوبی مسئلے کی کانفرنس کے لیے خصوصی انتظامات کا بھی ذکر ہوا۔ یہ کانفرنس آنے والے عرصے میں ریاض میں منعقد ہونا طے پایا ہے۔
جنوبی عبوری کونسل کو ختم کرنے کا فیصلہ ان حالیہ واقعات کے بعد سامنے آیا ہے جن کے نتیجے میں مشرقی یمن کے صوبوں حضرموت اور المہرہ میں عیدروس الزبیدی کے ایما پر ہتھیاروں کی نقل و حرکت ہوئی تھی۔ الزبیدی نے سعودی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا اور ابوظبی فرار ہو گئے جہاں انہوں نے مسلح گروہ تشکیل دیا تاکہ مسلح افواج کے افسروں اور سپاہیوں کے قتل کے جرائم کا ارتکاب کیا جائے اور جنوبی مسئلے کا استحصال کر کے شہریوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں اور فوجی تنصیبات و مقامات کی تخریب کاری کے ذریعے اسے نقصان پہنچایا جائے۔