شام: قامشلی میں "ایس ڈی ایف" کے حامی افراد کا اقوام متحدہ کے دفتر پر حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شام کے شمال میں واقع شہر قامشلی میں "سیریئن ڈیموکریٹک فورسز" (ایس ڈی ایف) کے حامی مظاہرین نے اقوامِ متحدہ کے دفتر پر حملہ کیا۔ یہ احتجاج اس بات کے خلاف کیا گیا جسے انہوں نے حلب کے محلوں الاشرفیہ اور شیخ مقصود ایس ڈی ایف کے خلاف شامی فوج کی جانب سے کی گئی فوجی کارروائی پر "عالمی برادری کی خاموشی" قرار دیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ایس ڈی ایف کے عناصر کو دونوں محلوں سے نکال کر شمال مشرقی شام کے علاقوں میں منتقل کر دیا گیا۔

مظاہرین نے اقوامِ متحدہ کے دفتر کی دیواروں پر نعرے اور تحریریں لکھیں، جن میں یہ شامل تھا "غداری کے شریکو، ایس ڈی ایف زندہ باد، انسانی حقوق کی تنظیمیں مردہ باد"۔

کچھ مظاہرین نے نگرانی کے کیمروں کو توڑنے اور عمارت پر پتھراؤ کرنے کے بعد عمارت میں داخل ہونے کی بھی کوشش کی۔ اس کے باعث دروازوں اور کھڑکیوں کو مادی نقصان پہنچا۔ یہ بات خبر رساں ایجنسی "ڈی پی اے" نے اپنی رپورٹ میں بتائی۔

اسی دوران اقوامِ متحدہ کے ایک ملازم نے اتوار کی شام بتایا کہ "دفتر کی سکیورٹی ٹیم نے کرد اسایش فورسز سے رابطہ کیا، جنہوں نے گشت کرنے والی ٹیمیں بھیجیں، سکیورٹی حصار قائم کیا اور مظاہرین کو عمارت سے دور ہٹا دیا"۔ یہ بات ، یہ بات "سوریہ" ٹی وی چینل نے بتائی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس حملے کے باعث "کچھ ملازمین مظاہرین کے ممکنہ حملوں کے خوف سے عمارت سے باہر نہیں جا سکے"۔
ادھر شمالی شام کے صوبہ حلب میں داخلی سلامتی کے یونٹوں نے گذشتہ روز شیخ مقصود کے علاقے میں سکیورٹی سروے کے دوران ایس ڈی ایف سے تعلق رکھنے والے بڑے گودام ضبط کیے، جن میں بھاری مقدار میں مختلف اقسام کے ہتھیار موجود تھے۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق ضبط شدہ سامان میں زمینی بارودی سرنگیں، دھماکا خیز آلات، راکٹ، گولے اور دستی بم شامل تھے۔ اس کے علاوہ بڑی مقدار میں مختلف اقسام کی گولہ بارود بھی برآمد ہوئی، جو علاقے میں عوامی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے براہِ راست خطرہ تھی۔ یہ اطلاع شامی سرکاری چینل "الاخباریہ" نے دی۔

وزارتِ داخلہ نے اس سے قبل یہ بھی اعلان کیا تھا کہ "ماہر انجینئرنگ ٹیموں نے شیخ مقصود میں سکیورٹی آپریشنز کے دوران دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے تیار کیے گئے متعدد دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنا دیا"۔

واضح رہے کہ گذشتہ منگل کو حلب کے کرد اکثریتی محلوں شیخ مقصود اور الاشرفیہ میں شامی افواج اور ایس ڈی ایف کے درمیان شروع ہونے والی جھڑپیں، بین الاقوامی ثالثی کے تحت طے پانے والے ایک معاہدے کے بعد گذشتہ روز ختم ہو گئیں۔ اس کے مطابق کرد جنگجوؤں نے اپنے ہتھیار حوالے کر کے شہر چھوڑ دیا۔

ان جھڑپوں کے نتیجے میں 24 افراد ہلاک اور 129 زخمی ہوئے، جیسا کہ شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی "سانا" نے حلب کے ڈائریکٹر صحت کے حوالے سے بتایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں