سعودی عرب کا سوڈان میں بیرونی مداخلت روکنے کی ضرورت پر زور

اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ متوازی حکومت کی تشکیل ایک مسترد شدہ امر ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب نے سوڈان میں بیرونی مداخلت روکنے اور غیر قانونی اسلحے اور غیر ملکی جنگجوؤں کے ذریعے فراہم کی جانے والی بیرونی امداد کی بندش کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ سعودی عرب نے اس معاملے کو جنگ بندی کے حصول اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کارروائیوں کو آسان بنانے کے لیے "انتہائی ضروری اور ناگزیر" قرار دیا ہے، تاکہ امدادی سامان کی ترسیل کے لیے محفوظ راستے کھولے جا سکیں۔ ساتھ ہی سوڈانی حکومت کی جانب سے سرحدی گزرگاہ کھولنے کے اقدام کا دوبارہ خیر مقدم کیا گیا ہے۔

یہ بات سعودی نائب وزیر خارجہ انجینئر ولید الخریجی نے سوڈان میں امن کی کوششوں اور اقدامات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے قاہرہ میں منعقدہ پانچویں مشاورتی اجلاس میں شرکت کے دوران کہی۔ انہوں نے اس اجلاس میں وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی نمائندگی کی۔

الخریجی نے اپنے خطاب میں سوڈان کے حوالے سے سعودیی عرب کی اولین ترجیحات کا اعادہ کیا، جن میں سوڈان کے استحکام کو یقینی بنانا، جنگ بندی، ریاستی اداروں کو تباہی سے بچانا اور ملک کی وحدت و سالمیت کا تحفظ شامل ہے۔

اسی تناظر میں الخریجی نے دوبارہ اس بات پر زور دیا کہ اس بحران کا حل خالصتاً "سوڈانی – سوڈانی" سیاسی حل ہے، جو سوڈان کی خود مختاری، اتحاد اور ریاستی اداروں کی حمایت پر مبنی ہو۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ مملکت فریقین کے نقطہ نظر کو قریب لانے اور جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ بگڑتے ہوئے انسانی بحران کا خاتمہ ہو اور سوڈانی عوام کی مشکلات کم ہو سکیں۔

سعودی نائب وزیر خارجہ نے 'اعلانِ جدہ' (11 مئی 2023ء) اور قلیل مدتی جنگ بندی کے معاہدے (20 مئی 2023ء) کی روشنی میں سیاسی مذاکرات کی بحالی کے لیے مملکت کی خواہش کا اظہار کیا۔

ولید الخریجی نے خبردار کیا کہ سوڈان میں جاری جنگ اور اس کے اثرات خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک متوازی حکومت کی تشکیل پر مبنی 'اتحاد' کا اعلان مکمل طور پر ناقابل قبول ہے، کیونکہ یہ بحران کے حل کے لیے جاری کوششوں میں رکاوٹ ہے اور سوڈان کی وحدت و خود مختاری سمیت علاقائی سلامتی اور بحیرہ احمر کی سکیورٹی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانونی اداروں سے باہر متوازی اداروں کا قیام تشویشناک ہے اور سیاسی راستے سے بحران کے حل کی کوششوں کو معطل کرنے کا باعث بنتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں