منگل کو فِرات خبر رساں ایجنسی نے کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے مسلح گروپ کے ایک رہنما کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ ترکیہ میں کالعدم کرد باغی دمشق حملے کے بعد شام میں کردوں کو "کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے"۔
شامی افواج نے تقریباً دو ہفتے قبل ایک جارحانہ کارروائی شروع کی تھی جس نے کرد زیرِ قیادت ایس ڈی ایف فورسز کو شمالی شہر حلب سے باہر دھکیل دیا تھا اور ہفتے کے آخر میں انہوں نے اپنی کارروائی کو وسعت دی تاکہ انہیں اس علاقے میں گہرائی تک دھکیل دیا جائے جس پر کرد افواج ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے قابض ہیں۔
فِرات نے پی کے کے کے مرات کارائیلان کے حوالے سے کہا، "آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ خواہ اس کی کوئی بھی قیمت ہو لیکن ہم آپ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ پورے کرد عوام اور ایک تحریک کے طور پر جو بھی ضروری ہو گا، ہم کریں گے۔"
شام کی قیادت کے قریبی اتحادی ترکیہ کی حکومت بیک وقت پی کے کے کے ساتھ ایک تصفیہ مہم کی قیادت کر رہی ہے۔ ترکیہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے پی کے کے کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔
کرائیلان نے کہا کہ دمشق کی زیرِ قیادت حملہ ترکیہ میں امن عمل کو "ناکام کرنے کی کوشش" تھا۔
انہوں نے کہا، "بین الاقوامی طاقتوں کا ان حملوں کو ممکن بنانے کا یہ فیصلہ امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور دیگر بین الاقوامی اتحادی ممالک کے لیے ایک سیاہ داغ ثابت ہو گا۔"
پیر کو ترکیہ کے کرد اکثریتی شہر دیار باقر میں کم از کم 500 افراد نے شامی جارحیت کے خلاف ریلی نکالی۔ پولیس نے احتجاج ختم کرنے کی کوشش کی تو جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
کرد نواز ڈی ای ایم پارٹی جو ترک پارلیمنٹ کی تیسری بڑی طاقت ہے، نے شام کی سرحد پر واقع قصبے نُصیبین میں منگل کو ایک ریلی کی کال دی ہے۔