ہم خود پر ہونے والے کسی بھی حملے کو "ہمہ گیر جنگ" کے طور پر دیکھیں گے: ایران

ایرانی عہدے دار نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری فوج بد ترین صورت حال کے لیے تیار ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک سینئر ایرانی عہدے دار نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی حملے کو "اپنے خلاف ہمہ گیر جنگ" کے طور پر دیکھے گا۔ یہ بیان آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی طیارہ بردار بحری بیڑے اور دیگر فوجی سازوسامان کی آمد سے قبل سامنے آیا ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے عہدے دار نے جمعے کے روز مزید کہا کہ "ہم امید کرتے ہیں کہ اس فوجی اجتماع کا مقصد حقیقی محاذ آرائی نہ ہو، لیکن ہماری فوج بد ترین صورت حال کے لیے تیار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران میں ہر چیز انتہائی چوکنا ہے"۔

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "اس بار ہم کسی بھی حملے کو ... خواہ وہ محدود ہو یا ہمہ گیر، درست ہدف بنانے والی ضرب ہو یا براہ راست فوجی نشانہ، وہ اسے جو بھی نام دیں ... اپنے خلاف ایک بھرپور جنگ تصور کریں گے اور اس معاملے کو حل کرنے کے لیے ہم ممکنہ حد تک سخت ترین طریقے سے جواب دیں گے"۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ امریکہ کا ایک "بیڑا" ایران کی طرف بڑھ رہا ہے، لیکن انہیں امید ہے کہ اسے استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انہوں نے تہران کو مظاہرین کی ہلاکت یا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کے خلاف اپنے انتباہ کا اعادہ بھی کیا تھا۔

ایرانی عہدے دار نے کہا "اگر امریکیوں نے ایران کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی تو ہم جواب دیں گے"۔ انہوں نے ایرانی رد عمل کی نوعیت بتانے سے گریز کیا۔

عہدے دار نے مزید کہا "جس ملک کو امریکہ کی جانب سے مسلسل فوجی خطرات کا سامنا ہو، اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا کہ وہ جواب دینے کے لیے اپنے تمام وسائل کے استعمال کو یقینی بنائے اور اگر ممکن ہو تو، کسی بھی ایسی قوت کے خلاف توازن بحال کرے جو ایران پر حملہ کرنے کی جرات کرے"۔

امریکی فوج تناؤ بڑھنے کے وقت مشرق وسطیٰ میں اضافی افواج بھیجنے کی عادی ہے اور یہ اقدامات اکثر دفاعی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ تاہم امریکی فوج نے گذشتہ سال جون میں ایرانی جوہری پروگرام کے خلاف کیے گئے حملوں سے قبل اپنی افواج کی تعیناتی میں اضافہ کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں