شام کے ہلال احمر کے ادارے کی ایک اہلکار سمیت دو بچوں کی ملک کے شمال مغربی علاقے میں سیلاب کی وجہ سے ہلاکتیں کوئی ہیں۔ یہ بات سرکاری میڈیا نے اتوار کے روز خبروں میں بتائی ہے۔
شام کے علاقوں حلب اور لطاکیہ کی ساحلی پٹی پر ہونے والی خوفناک طوفانی بارشوں سے پناہ گزین کے کیمپوں میں بھی سخت ہراس پھیل گیا ہے۔ حکام کے مطابق سیلابی صورتحال کے باعث ریسکیو آپریشن شروع کر دیے گئے اور علاقے میں لوگوں کو عارضی پناہ گاہیں مہیا کی جا رہی ہے۔
شام کے سرکاری خبر رساں ادارے 'ثناء' کے مطابق ہلال احمر سے وابستہ ایک رضاکار لطاکیہ صوبے میں اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دیتے ہوئے جاں بحق ہوگیا ہے۔ جبکہ چار دیگر لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
ہلال احمر کے جاری کردہ اعلان کے مطابق سیلابی تباہی سے لوگوں کو بچانے کے لیے مشن کام کر رہے ہیں۔
اس دوران ایک رضاکار خاتون ہلاک ہوگئی اور چار دیگر زخمی ہیں۔ یہ ٹیم سیلابی ریلے میں پھنسے ہوئے شہریوں کو نکالنے کے لیے گئی تھی۔
بتایا گیا ہے کہ رضاکار خاتون نے ایک بچے کو سیلابی لہروں سے بچانے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی جان دے دی۔
خبر رساں ادارے کے مطابق ہفتہ کے روز دو بچوں کی سیلاب کی وجہ سے ہلاکت ہوئی۔ یہ واقعہ لطاکیہ صوںے کے انتہائی شمالی علاقے میں پیش آیا۔
حکام کی طرف سے اتوار کے روز کہا گیا ہے کہ راستوں کو کلیئر کرنے اور لوگوں کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے نکالنے کے لیے کوششیں جاری ہیں اور انہیں محفوظ مقامات پر خیموں میں رکھا جا رہا ہے۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلقہ وزارت کے مطابق اب تک حلب میں 14 ایسے کیمپ قائم کیے گئے ہیں جن میں سیلاب زدگان کو رکھا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق 300 خاندان براہ راست سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔
یاد رہے خانہ جنگی کے دنوں سے لے کر اب تک تقریبا 7 ملین شامی شہری ملک کے اندر نقل مکانی ہر مجبور ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 14 لاکھ ملک کے شمال مغربی اور شمال مشرقی حصوں میں کیمپوں میں مقیم ہیں۔