امریکہ اور ایران کے درمیان آج منگل کو جنیوا میں مذاکرات کا دوسرا دور ہو رہا ہے۔ یہ سلسلہ فروری میں اسلامی جمہوریہ کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے خطرات کے سائے میں شروع ہوا تھا، جبکہ تہران نے اپنے جوہری معاملے کے حوالے سے واشنگٹن کے موقف کو پہلے سے "زیادہ حقیقت پسندانہ" قرار دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گذشتہ دسمبر کے آخر میں شروع ہونے والے مظاہروں کی شدید سرکوبی اور اس میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کے تناظر میں کئی ہفتوں سے تہران کو فوجی حملے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے، جس کے جواب میں تہران نے بھی کسی بھی جارحیت پر فوری رد عمل کا انتباہ دیا ہے۔ اسی سلسلے میں پاسداران انقلاب نے پیر کے روز آبنائے ہرمز میں مشقیں شروع کیں۔
دونوں ممالک کے درمیان عمان کی سفارت کاری کے تحت 6 فروری کو مسقط میں مذاکرات بحال ہوئے تھے اور جنیوا کا موجودہ دور بھی عمانی میزبانی میں ہو رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ان مذاکرات میں "بالواسطہ" شریک ہوں گے، ان کا ماننا ہے کہ ایران معاہدہ نہ کرنے کے نتائج برداشت نہیں کرنا چاہتا۔
ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں جنہوں نے عمانی وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی سے ملاقات میں جوہری معاملے اور پابندیوں کے خاتمے پر ایران کا نقطہ نظر پیش کیا۔ دوسری جانب امریکی وفد کی قیادت مشرق وسطیٰ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کر رہے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی معاہدے کی امید ظاہر کی ہے۔
یہ بالواسطہ مذاکرات گذشتہ سال ہونے والے مذاکرات کی ناکامی اور جون میں اریان پر اسرائیلی حملوں (جس میں امریکہ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی) کے بعد پہلا رابطہ ہے۔ ایران صرف جوہری معاملے پر بات کرنا چاہتا ہے، جبکہ امریکہ اور مغربی ممالک بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروپوں کی حمایت کو بھی ایجنڈے میں شامل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
جنیوا میں عباس عراقچی نے ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجسنی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی سے بھی ملاقات کی تاکہ ایران کے 60 فی صد افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے مستقبل پر بات کی جا سکے۔
ادھر واشنگٹن نے خطے میں طیارہ بردار بحری جہاز "یو ایس ایس ابراہم لنکن" کے بعد دوسرے جہاز "جیرالڈ فورڈ" کو بھی بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف پاسداران انقلاب کی آبنائے ہرمز میں مشقوں کا مقصد ممکنہ سکیورٹی خطرات سے نمٹنا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے ایران میں "نظام کی تبدیلی" کو بہترین قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یا تو معاہدہ ہوگا ورنہ صورتحال بہت تکلیف دہ (فوجی کارروائی) ہو سکتی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا مطالبہ ہے کہ کسی بھی معاہدے میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ملک سے باہر منتقل کرنا اور افزودگی کی صلاحیت کا مکمل خاتمہ شامل ہونا چاہیے۔ تاہم تہران اپنے دفاعی پروگرام کو ناقابلِ مذاکرات قرار دیتا ہے۔