لبنان کے صدر نے ہفتے کے روز اپنے ملک پر ایک دن پہلے کے تازہ ترین مہلک اسرائیلی حملوں کی مذمت کی جو حزب اللہ سے جنگ بندی کے باوجود کیے گئے ہیں۔
ایک بیان میں جوزف عون نے ان حملوں کو "امریکہ اور دیگر ممالک کی جانب سے استحکام قائم کرنے کی سفارتی کوششیں ناکام بنانے والی جارحانہ کارروائی" قرار دیا۔
حزب اللہ کے ایک قانون ساز نے بیروت سے جنگ بندی کی نگرانی کرنے والی کثیر القومی کمیٹی کے اجلاس معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔
نومبر 2024 میں نافذ کردہ جنگ بندی کی نگران کمیٹی اگلے ہفتے دوبارہ ملاقات کرنے والی ہے جس کے پانچ ارکان میں سے ایک واشنگٹن ہے۔
جنوبی اور مشرقی لبنان میں جمعہ کے حملوں میں وزارتِ صحت کے مطابق 12 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے 10 ہلاکتیں ملک کے مشرق میں ہوئیں۔
اسرائیل کی فوج نے کہا کہ اس نے "بعلبک کے علاقے میں تین مختلف کمانڈ سینٹرز میں حزب اللہ کے میزائل چلانے والے کئی دہشت گردوں کو ختم کر دیا۔"
حزب اللہ نے کہا کہ چھاپوں میں اس کا ایک کمانڈر ہلاک ہو گیا۔ گروپ کے قانون ساز رامی ابو ہمدان نے ہفتے کے روز کہا، گروپ "محض سیاسی تجزیہ کاروں کے طور پر کام کرنے والے حکام کو قبول نہیں کرے گا اور ہم کمیٹی کے ہر اجلاس سے پہلے ان اسرائیلی حملوں کے عادی ہو چکے ہیں۔"
انہوں نے بیروت سے مطالبہ کیا کہ "کمیٹی کے اجلاس اس وقت تک معطل کر دیے جائیں جب تک دشمن اپنے حملے بند نہ کر دے۔"