عراق: بغداد ایئرپورٹ کے قریب دھماکے، حشد الشعبی پر حملے
ڈرون طیاروں کے ذریعے ایئرپورٹ کے نواح پر مسلسل حملے
اتوار کی شام بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک فوجی اڈے ، جہاں امریکی سفارت خانے کی لاجسٹک سپورٹ ٹیم مقیم ہے، کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ وکٹری کیمپ پر ڈرونز اور میزائلوں سے نو حملے کیے گئے۔ دو دیگر اہلکاروں نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ ان میں سے ایک نے بتایا کہ کم از کم تین ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ ’’ العربیہ‘‘ اور ’’ الحدث ‘‘ کے نمائندے نے بتایا کہ امریکی وکٹری بیس پر ڈرونز کے پورے گروپ کے ذریعے کیا گیا اور یہ حملہ انتہائی شدید تھا۔
اسی طرح فضائی حملوں میں کرکوک کے جنوب اور دبس کے علاقے میں عراقی حشد الشعبی کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ عراقی حکام نے اتوار کو بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے گردونواح میں ڈرون طیاروں کے مسلسل حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ یہ حملے قریب ہی واقع ایک انتہائی سخت سکیورٹی والی اس جیل کے لیے براہ راست خطرہ ہیں جس میں انتہا پسند قید ہیں۔
28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی شروع کردہ جنگ کے بعد سے ’’ اسلامی مزاحمت عراق‘‘ کے نام سے معروف عراقی تنظیمیں روزانہ کی بنیاد پر عراق اور خطے میں دشمن کے اڈوں پر درجنوں ڈرونز اور میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کر رہی ہیں۔ بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جس میں واشنگٹن کے سفارت خانے کی لاجسٹک سپورٹ ٹیم کا فوجی اڈہ موجود ہے، پہلے بھی کئی بار اس نوعیت کے حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔
عراقی وزارتِ انصاف کے ترجمان احمد لعیبی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران بغداد ایئرپورٹ کے نواح اور ایئرپورٹ جیل (الکرخ سینٹرل) پر بار بار حملے ہوئے جن میں سے بعض جیل کے بہت قریب تھے۔ یہ وہ جیل ہے جہاں انتہائی خطرناک دہشت گرد قیدی موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جیل کے قریب گولہ بارود کا گرنا تشویشناک ہے کیونکہ یہ صورت حال جیل کی حفاظت کے لیے ہمارے احتیاطی اقدامات اور سکیورٹی پلانز پر اثر انداز ہو سکتی ہے یا جیل کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جیل کی سکیورٹی کے لیے کیے گئے اقدامات اطمینان بخش ہیں۔
ہفتے کی رات دو سکیورٹی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کمپلیکس پر ڈرون حملہ کیا گیا۔ لعیبی نے ہفتے کے حملے کو اس علاقے میں ہونے والا شدید ترین حملہ قرار دیا۔ عراقی وزیراعظم محمد شیاع السوڈانی نے اتوار کو متنبہ کیا ہے کہ خطے میں تنازع افراتفری کا باعث بنے گا اور اس سے انتہا پسندی، سرحد پار دہشت گردی، غیر قانونی ہجرت کے خطرات بڑھنے اور عالمی سپلائی چینز کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
شیاع السوڈانی نے حشد الشعبی کے مراکز اور سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں اور کسی بھی ایسے اقدام کو دوبارہ مسترد کیا جو عراق کو جاری جنگ میں دھکیل دے۔ انہوں نے ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے خاتمے، بحرانوں کے حل اور استحکام کے حصول کے لیے بین الاقوامی قانون کے نفاذ کو بنیاد قرار دیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ اس نے شام میں کرد افواج کے پیچھے ہٹنے کے بعد داعش کے 5700 سے زیادہ قیدیوں کو شام سے عراق منتقل کر دیا ہے۔ ان قیدیوں کو شام سے بغداد کی الکرخ جیل منتقل کیا گیا۔ یہ سابق امریکی فوجی حراستی مرکز ہے اور اسے کیمپ کروپر کے نام سے جانا جاتا ہے۔