پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل اور آرمی چیف عاصم منیر نے ایران کا مختصر مگر انتہائی اہم اور نتیجہ خیز سرکاری دورہ مکمل کر لیا ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران انہوں نے ایرانی قیادت سے اعلیٰ سطح ملاقاتیں کیں، جو آٹھ اپریل 2026 کی جنگ بندی کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں تناؤ میں کمی اور تعمیری روابط کے فروغ کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا حصہ ہیں جس کا مقصد تناؤ میں کمی اور تعمیری سفارتی پیش رفت کو آگے بڑھانا ہے۔
اس سے قبل ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ تہران سے روانہ ہوئے، جو گذشتہ ہفتے سے ایران میں موجود تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ’یہ دورہ 8 اپریل 2026 کی جنگ بندی کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کا حصہ تھا، جس کا مقصد تناؤ میں کمی اور تعمیری سفارتی پیش رفت کو آگے بڑھانا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ایران کے دورے کے دوارن ملاقاتوں اور مذاکرات میں خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری مشاورتی عمل کو تیز کرنے اور ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے عملی اقدامات پر بات چیت ہوئی۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق ’فیلڈ مارشل کی ایران میں اہم شخصیات سے تمام ملاقاتیں مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی سفارتی سرگرمیوں کے نتیجے میں حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی ہے۔‘
بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’ایرانی قیادت نے خطے میں امن کے فروغ اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں پاکستان کے مخلصانہ اور تعمیری کردار کو سراہا۔‘
اپنے دورے کے دوران فیلڈ مارشل نے ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف، ایران کے صدر مسعود پزشکیان، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی شامل تھے۔
واضح رہے کہ یہ گذشتہ چند ہفتوں میں عاصم منیر کا ایران کا دوسرا دورہ تھا۔ واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور حالیہ سفارتی سرگرمیوں کو اسی سلسلے کی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا (مہر نیوز ایجنسی) کے مطابق تہران کا دورہ کرنے والے پاکستان فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے آج (ہفتے کو) تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ سپیکر باقر قالیباف سے ملاقاتیں کیں۔
ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ہفتے کو دوسری ملاقات ہوئی ہے۔
اس سے قبل رات گئے ایک اجلاس ہو چکا ہے۔ ارنا کے مطابق: ’ان مذاکرات کی بنیاد ایران کا چار نکاتی منصوبہ ہے۔ یہ ایک تکنیکی اور قانونی اجلاس ہے جس میں شاید کچھ وقت لگے گا۔‘
رائٹرز کے مطابق یہ ایرانی رہنماؤں کے ساتھ فیلڈ مارشل کی ملاقاتیں ایسے وقت ہو رہی ہیں جب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کو تیز کر رہا ہے تاکہ صورت حال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔
پہلی ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل اور عراقچی نے حالیہ سفارتی اقدامات اور ان کوششوں پر تفصیلی گفتگو کی، جن کا مقصد کشیدگی میں اضافہ روکنا اور ایران سے متعلق جاری تنازع کو ختم کرنا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مذاکرات دیر رات تک جاری رہے۔
اس سے قبل پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ عاصم منیر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں تہران گئے ہیں۔
تہران آمد پر ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقعے پر پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔