دنیا بھر میں بحریہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ڈیٹا کے مطابق منگل کے روز امریکی بحریہ کا ایک جنگی جہاز، جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ اس پر ہزاروں فوجی سوار ہیں، مشرق وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے اور سنگاپور کے قریب آبنائے ملاکا تک پہنچ گیا ہے۔
آٹومیٹک آئیڈینٹی فیکیشن سسٹم (AIS) کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ منگل کی صبح ایمفی بیئس اسالٹ شپ "یو ایس ایس ٹرپولی" بحیرہ جنوبی چین کے جنوب مغربی کنارے پر سنگاپور کے قریب تھا اور مشرق وسطیٰ کے خطے کی طرف گامزن تھا۔ یہ بات امریکی نیوز چینل "سی این این" نے اپنی رپورٹ میں بتائی۔
عام طور پر امریکی جنگی جہاز ٹریکنگ ڈیوائسز کا محدود استعمال کرتے ہیں، تاہم سنگاپور کے گردونواح جیسے مصروف بحری راستوں میں حفاظتی وجوہات کی بنا پر انہیں فعال کیا جاتا ہے۔
تین با خبر حکام کے مطابق، اس جہاز پر اوکی ناوا میں مقیم امریکی میرین کور کی 31 ویں یونٹ کے اہل کار سوار ہیں۔ یہ تقریباً 2200 اہل کاروں پر مشتمل ایک ریپڈ رسپانس فورس (قوتِ مداخلتِ سریع) ہے، جسے امریکی وزارت دفاع (پنٹاگان) کے احکامات کے بعد مشرق وسطیٰ میں تعینات کیا جا رہا ہے، تاہم ان کی صحیح جگہ یا مخصوص مشن کو ظاہر نہیں کیا گیا۔
یہ یونٹ چار اہم اجزاء پر مشتمل ہے جس میں کمانڈ، زمینی لڑائی، فضائی لڑائی اور لوجسٹک سپورٹ شامل ہے۔ یہ فورس عام طور پر انخلا کے مشن اور ایمفی بیئس آپریشنز (سمندر سے زمین پر منتقلی) کے علاوہ تیز رفتار جارحانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
اس سلسلے میں"MarineTraffic" ویب سائٹ کے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ ایک غیر متعین امریکی جنگی جہاز 11 مارچ کو اوکی ناوا سے بحیرہ جنوبی چین کے راستے روانہ ہوا اور تقریباً 22 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سنگاپور کی طرف بڑھ رہا ہے۔
جاپان کے شہر ساسیبو میں تعینات "یو ایس ایس ٹرپولی" بڑے ایمفی بیئس اسالٹ بحری جہازوں میں سے ایک ہے، جس کی لمبائی تقریباً 850 فٹ اور وزن تقریباً 45 ہزار ٹن ہے۔ یہ ایک چھوٹے طیارہ بردار بحری جہاز کے طور پر کام کرتا ہے، جس پر "ایف-35" اسٹیلتھ لڑاکا طیارے، "اوسپرے" طیارے اور فوجیوں کو ساحل تک پہنچانے کے لیے لینڈنگ کرافٹ (چھوٹی کشتیاں) موجود ہوتی ہیں۔
یہ جہاز عام طور پر ایک ایمفی بیئس ریڈی گروپ کی قیادت کرتا ہے جس میں دیگر معاون جہاز بھی شامل ہوتے ہیں، تاہم ابھی تک ٹریکنگ ڈیٹا کے ذریعے ان دیگر بحری جہازوں کے ہمراہ ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔