دارالحکومت کی خوبصورتی میں اضافے کے لیے ریاض آرٹ کے تحت نئے فن پارے متعارف
ریاض آرٹ پروگرام کے تحت سعودی اور عالمی فن کاروں کے مزید 115 فن پارے نصب کرنے کا عزم
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی جمالیاتی شان و شوکت اور ثقافتی تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے رائل کمیشن برائے ریاض شہر نے ریاض آرٹ پروگرام کے تحت ایک نئے فنی پورٹ فولیو کا انکشاف کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت شہر کے عوامی مقامات اور چوراہوں پر تقریبا 75 نئے فن پارے نصب کیے گئے ہیں جبکہ مستقبل قریب میں مزید 115 فنی شاہکار اس مجموعے کا حصہ بنائے جائیں گے تاکہ شہر کی شاہراہوں کو ایک کھلی آرٹ گیلری میں تبدیل کیا جا سکے۔
رائل کمیشن برائے ریاض شہر ان فن پاروں کے ذریعے ایک ایسا تخلیقی اور ثقافتی ماحول تشکیل دینے کا عزم رکھتا ہے جو علاقائی اور عالمی سطح پر دارالحکومت کے وقار کی عکاسی کرے۔ ریاض آرٹ پروگرام کو دنیا کے وسیع ترین عوامی فنی پروگراموں میں شمار کیا جاتا ہے جو پورے شہر میں خوبصورتی کے رنگ بکھیر رہا ہے۔
من موقعٍ إلى آخر، تتشكل ملامح الرياض بالفنّ. الأعمال الفنية الدائمة تتوزع في أنحاء الرياض، وتصبح جزءًا من تجربتها اليومية. pic.twitter.com/yshbG2Dyu7
— الرياض آرت (@Riyadh_Arts) April 15, 2026
ان فن پاروں کی تیاری میں 35 سعودی فن کاروں کے ساتھ ساتھ دنیا کے 45 ممالک سے تعلق رکھنے والے 100 نامور بین الاقوامی فن کاروں نے حصہ لیا ہے۔ ان عالمی شہرت یافتہ ناموں میں انیش کابور، جوزیپی بینونی اور جیف کونز شامل ہیں، جبکہ سعودی فن کاروں میں زمان جاسم، محمد السلیم اور منال الضویان جیسے ماہرین کے فن کو سراہا گیا ہے۔
ان فن پاروں کے انتخاب کے لیے ایک بین الاقوامی مقابلے کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں دنیا بھر سے 161 فن کاروں نے شرکت کی۔ ان میں سے 72 کو باقاعدہ دعوت دی گئی جنہوں نے 70 فنی تجاویز پیش کیں، جن کی بنیاد پر دارالحکومت کی مرکزی شاہراہوں اور اہم راستوں کو سجانے کا عمل مکمل کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد فن کو صرف گیلریوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عام لوگوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا ہے تاکہ ہر شہری اور راہگیر ان سے لطف اندوز ہو سکے۔
رائل کمیشن کے مطابق مستقبل میں نصب کیے جانے والے فن پاروں میں 12 بڑے مجسمے اور وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے شہری فن پارے شامل ہوں گے جو مخصوص مقامات کی مناسبت سے تیار کیے گئے ہیں۔ ان فن پاروں کے لیے الیگزینڈر کالڈر، جانیٹ ایکلمن اور ایڈریس خان جیسے بڑے ناموں کا انتخاب کیا گیا ہے جو ریاض کی اہم گزرگاہوں کی رونق میں اضافہ کریں گے۔
ریاض آرٹ پروگرام کے سینئر مینیجر انجینئر بدر الشنیفی کا کہنا ہے کہ یہ فن پارے اس طرح ڈیزائن کیے گئے ہیں کہ وہ شہر کے روزمرہ تجربے کا حصہ بن سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقامات کا انتخاب شہریوں کی نقل و حرکت کے رجحانات کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے تاکہ یہ فن پارے محض خاموش ڈھانچے نہ رہیں بلکہ زندگی کی لہر کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں۔
حالیہ دنوں میں مکمل ہونے والے نمایاں کاموں میں اسپورٹس ٹریک پر نوبو سیکینے کا شاہکار مرحلہ الفراغ، شاہ عبدالعزیز تاریخی مرکز میں جوزیپی بینونی کا توازن اور شاہ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ میں سبودھ گپتا کا شجرہ نسب شامل ہیں۔ اسی طرح سفارتی محلے میں جیف کونز کا ریڈ ڈائمنڈ اور انیش کابور کا اسکائی مرر اپنے رنگوں اور عکس کے باعث توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
#الرياض_آرت يكشف عن 75 عملًا فنيًّا ضمن مجموعة الأعمال الفنية الدائمة في الرياض.
— الهيئة الملكية لمدينة الرياض (@RCRCSA) April 15, 2026
لمزيد من التفاصيل:https://t.co/dAvNCulecT pic.twitter.com/GOCbuuiT70
واضح رہے کہ ریاض آرٹ پروگرام کا آغاز سنہ 2019ء میں ہوا تھا اور یہ سعودی ویژن 2030 کے تحت ریاض شہر کے چار بڑے منصوبوں میں سے ایک ہے۔ اس کا مقصد دارالحکومت کو ایک کھلے عالمی نمائش خانے میں تبدیل کرنا ہے جہاں فن اور زندگی ایک ساتھ رواں دواں نظر آئیں۔