ایک ایسے وقت میں جب اسرائیلی فوج جنگ بندی کے باوجود لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فضائی اور میدانی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف ایال زامیر نے جنوبی لبنان میں اپنی افواج کے زیر قبضہ علاقوں کے دورے کے دوران دریائے لیطانی کے شمال میں اور ییلو لائن کہلانے والی حد سے باہر حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی ہے۔
ایال زامیر نے جنوبی لبنان میں اسرائیل کی جانب سے قائم کردہ سکیورٹی زون کے اندر تعینات افواج کے دورے کے بعد جاری ہونے والے ایک فوجی بیان کے مطابق کہا کہ ہماری کمیونٹیز یا ہماری افواج کے خلاف کسی بھی جگہ ییلو لائن سے آگے اور لیطانی کے شمال تک کوئی بھی خطرہ ہوگا تو اسے ختم کر دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوج نے ان اہداف کو حاصل کر لیا ہے جو اسرائیل کی حکومت نے لبنانی سرزمین کے اندر مقرر کیے تھے اور مستقبل میں اسے اپنے کچھ ٹھکانوں کو برقرار رکھنے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھی اور کہا کہ لبنان میں ہمیں اسرائیلی سیاسی قیادت کی جانب سے جو مشن سونپا گیا ہے وہ اس حدِ فاصل کو برقرار رکھنا ہے جو آبادی پر براہ راست فائرنگ کو روکتی ہے۔ ہم نے اسے مکمل کر لیا ہے اور ممکن ہے کہ ہمیں یہاں رکنے کے لیے کہا جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوجی کامیابیوں نے ان کارروائیوں کے لیے آپریشنل حالات فراہم کر دیے ہیں جن کی قیادت اب سیاسی سطح کر رہی ہے۔ ان کا اشارہ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنانی حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی طرف تھا۔
حقیقی اتھارٹی ہونے تک پیچھے نہیں ہٹیں گے
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل لبنان سے اس وقت پیچھے ہٹے گا جب وہاں حکومت اور فوج کی حقیقی اتھارٹی قائم ہوجائے گی۔ جدعون ساعر نے "العربیہ انگلش" کو دیے گئے بیانات میں اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ اسرائیل کے لبنان میں کوئی علاقائی عزائم نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ لبنانی حکومت کی مرضی کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ اسرائیل حزب اللہ کی طرف سے نشانہ بنائے جانے کا جواب اس طرح دے گا جیسا وہ مناسب سمجھے گا۔
جنگ بندی اور خلاف ورزیاں
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے پیر کے روز اس بات کی تصدیق کی تھی کہ حزب اللہ کے پاس موجود راکٹ اور ڈرون لبنان میں فوجی کارروائی جاری رکھنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ یہ بیان اس کے باوجود دیا گیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ موجود ہے۔
واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع کا اعلان کیا تھا جو 17 اپریل کو شروع ہوئی تھی۔ یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں لبنان اور اسرائیل کے سفیروں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نئے دور کے بعد کیا گیا تھا۔ تاہم خلاف ورزیاں اب بھی جاری ہیں۔
یاد رہے مشرق وسطیٰ کی جنگ 2 مارچ کو اس وقت لبنان تک پھیل گئی تھی جب حزب اللہ نے 28 فروری کو ایران پر امریکی اسرائیلی حملے کے پہلے دن ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے جواب میں اسرائیل پر راکٹ داغ دیے تھے۔
اس وقت اسرائیل نے لبنان پر وسیع پیمانے پر فضائی بمباری کی مہم شروع کردی اور اس کی افواج نے اس کے جنوبی علاقوں پر چڑھائی کردی اور 17 اپریل کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی اسرائیل نے اپنی افواج کو لبنان میں برقرار رکھی ہوئی ہیں۔
دریں اثنا لبنانی وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 2534 افراد جاں بحق اور 7863 زخمی ہو چکے ہیں۔ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اسرائیل نے خاص طور پر جنوبی لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس کی افواج سرحد کے ساتھ واقع کئی قصبوں میں مسمار کرنے اور بڑے پیمانے پر دھماکوں کی کارروائیاں کر رہی ہیں۔
اسرائیلی فوج نے درجنوں دیہاتوں کو باقی علاقوں سے الگ کرنے والی ایک ییلو لائن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فرانس پریس کے مطابق حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج کو نشانہ بنانے یا شمالی اسرائیل کی طرف راکٹ اور ڈرون داغنے کی کارروائیاں کرنے کا اعلان کیا ہے۔