ایران جنگ

ایران پر امریکہ اور یورپ میں اختلافات، آبنائے ہرمز کا بحران اور مفادات کی جنگ

تہران کے نظام کو کمزور کرنا یورپی ممالک کے لیے وسیع معاشی مفادات کے جال کے لیے براہ راست خطرہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

ایران کے معاملے پر امریکہ اور یورپ کے درمیان اختلافات اب محض نقطہ نظر کا فرق نہیں رہے بلکہ یہ ایک مکمل تزویراتی (اسٹریٹجک) تصادم کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جو اقدار کے بجائے مفادات کے گہرے ٹکراؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب مغربی فریقین جمہوریت اور انسانی حقوق کے مشترکہ نعرے بلند کر رہے ہیں، حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ اور بالخصوص ایران کے حوالے سے ان کی پالیسیوں پر صرف خالص منافع کا منطق حاوی ہے، چاہے اس کی قیمت خطے کا استحکام ہو یا وہاں کے عوام کی مشکلات۔

ایران اور مشرق وسطیٰ کی دیگر مارکیٹوں پر یورپی یونین، چین اور روس کے غلبے نے امریکہ کو اس خطے میں اپنی طویل فوجی مداخلتوں کے ثمرات سمیٹنے سے روک دیا ہے، باوجود اس کے کہ واشنٹن نے القاعدہ اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جنگوں میں بھاری قیمت ادا کی۔ جب واشنگٹن ان لڑائیوں میں مصروف تھا، یورپی اور ان کے شراکت دار معاشی اور سیاسی فوائد حاصل کر رہے تھے اور ایک ایسے مضطرب علاقائی واقعیت سے فائدہ اٹھا رہے تھے جہاں براہ راست محاذ آرائی سے دور رہ کر اثر و رسوخ کی نئی تشکیل کی جا رہی تھی۔

اسی لیے یہ حیرت انگیز نہیں کہ یورپ کسی بھی ایسی امریکی حکمت عملی کے سامنے کھڑا ہو گیا جس کا مقصد ایران پر حقیقی دباؤ ڈالنا ہو۔ یورپیوں کے لیے ایرانی نظام کو کمزور کرنا یا گرانا محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ان کے اس وسیع معاشی مفادات کے جال کے لیے براہ راست خطرہ ہے جو انہوں نے گذشتہ چار دہائیوں میں بُنا ہے۔ اسی بنا پر نظام کی تبدیلی کا تصور مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ کی ایک بڑی جنگ سے جڑ گیا ہے، جہاں ایران میں موجودہ نظام کا بقا بحر اوقیانوس کے دونوں کناروں کے درمیان توازن کی مساوات کا مرکز بن چکا ہے۔

فرانسیسی مسلح افواج کی وزیر کیتھرین ووٹرین کے بیانات جن میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ہماری جنگ نہیں ہے"، محض ایک عارضی موقف نہیں بلکہ یورپی ویژن کا واضح اظہار تھا۔ جب وہ یہ کہتی ہیں کہ واشنگٹن سے کسی نے یہ جنگ شروع کرنے کا نہیں کہا تھا اور ایک واضح امریکی حکمت عملی کے فقدان کی طرف اشارہ کرتی ہیں، تو وہ دراصل یورپ اور کسی بھی ممکنہ کشیدگی کے درمیان ایک نپا تلا سیاسی فاصلہ پیدا کر رہی ہیں تاکہ ان قائم شدہ مفادات کا تحفظ کیا جا سکے جن پر وہ خطرہ مول نہیں لینا چاہتیں۔

تہران کے خطرات اور یورپی رویہ

تضاد یہ ہے کہ یورپ جو اپنی براہ راست سکیورٹی کے معاملے میں غیر معمولی سختی دکھاتا ہے (جیسا کہ یوکرین کے لیے اس کی فراخدلانہ حمایت میں دیکھا جا سکتا ہے)، ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے بالکل مختلف نقطہ نظر اپناتا ہے۔ تہران کے خطرات، اپنے علاقائی پھیلاؤ کے باوجود یورپی سطح پر وجودی خطرے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے بحران کے طور پر دیکھے جاتے ہیں جسے قابو میں رکھ کر اس کے توازن سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ یورپی سرزمین پر ایرانی سیاسی رہنماؤں کے قتل اور دہشت گردی سے منسوب سرگرمیوں کے ذریعے یورپی ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزیوں پر بھی اس بوڑھے براعظم نے کوئی سخت موقف اختیار نہیں کیا بلکہ اسے زیادہ تر نظر انداز کرنے کی پالیسی سے نوازا گیا۔

لیکن موجودہ مرحلے میں منظر نامہ اب ویسا نہیں رہا۔ حالیہ علاقائی پیش رفت، ایران کے آلہ کاروں پر لگنے والی ضربیں اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پانسہ پلٹ دیا ہے۔ یہاں ایک زیادہ سخت امریکی نقطہ نظر سامنے آیا ہے، خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رجحانات کے سائے میں، جنہوں نے اس یقین کا اظہار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی کہ گذشتہ دہائیوں کے دوران ایرانی نظام کا تسلسل ایک اسٹریٹجک غلطی تھی۔

آبنائے ہرمز اور امریکی حکمت عملی

یہ نقطہ نظر ایک واضح مفروضے پر مبنی ہے: ایرانی نظام اپنی فطرت اور طرز عمل کے لحاظ سے تبدیلی کے قابل نہیں ہے اور اس کا تسلسل بحرانوں کے تسلسل کا باعث ہے۔ اس بنیاد پر اب ہدف محض ایران کو محدود کرنا نہیں بلکہ اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنا اور شاید معاشی دباؤ سے لے کر فوجی ضربوں تک کے مختلف ذرائع سے تہران کے نظام کو بتدریج گرانا ہے، خاص طور پر میزائل اور ایٹمی پروگرام سے متعلق الزامات، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے خطرات اور خلیج میں واشنگٹن کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے کے بعد۔

دوسری جانب یورپی ممالک اس بحران کو حل کرنے کے بجائے اسے صرف مینیج کرنے پر شرط لگا رہے ہیں اور ایرانی عوام کی مشکلات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ واشنٹن کا خیال ہے کہ ایران کی علاقائی پالیسیوں اور مسلح گروہوں کی حمایت نے نہ صرف اس کے مخالفین کو کمزور کیا بلکہ خود امریکہ کو بھی کسی حقیقی فائدے کے بغیر بھاری تزویراتی قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا۔ جبکہ ان پالیسیوں کے فوائد یورپ، چین اور روس کی طرف بہتے رہے اور واشنٹن تنہا محاذ آرائی کا بوجھ اٹھاتا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی سوچ میں بحرانوں کو مینیج کرنے کے بجائے ان کے ذرائع کو ختم کرنے کی طرف تبدیلی آئی ہے۔

اس تبدیلی کو ماضی کے اسباق، خاص طور پر سنہ 2003ء کی عراق جنگ کے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا، جسے ترجیحات کے غلط اندازے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ خود امریکہ کے اندر بعد میں یہ سوالات اٹھے کہ کیا اس وقت ایران کی طرف توجہ مرکوز کرنا حالات کا رخ بدل سکتا تھا؟ لیکن یورپی موقف سمیت بین الاقوامی توازن نے امریکی فیصلے کو ایک مختلف راستے پر ڈالنے میں کردار ادا کیا جس کی قیمت بہت زیادہ تھی۔

مستقبل کا رخ: استحکام یا نیا ٹکراؤ؟

آج یہ خطہ ایک واضح دوراہے پر کھڑا ہے: یا تو "افراتفری کو مینیج کرنے" کی پالیسی جاری رہے گی جو بعض طاقتوں کو بحرانوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیتی ہے، یا پھر توازن کی دوبارہ تشکیل کے ایسے مرحلے کی طرف منتقلی ہوگی جو مہنگی مگر فیصلہ کن محاذ آرائیوں کے ذریعے ہو سکتی ہے۔ اس انتخاب کے مرکز میں ایران ایک ریاست کے طور پر ہی نہیں بلکہ باہم جڑے ہوئے بین الاقوامی مفادات کے سنگم کے طور پر کھڑا ہے۔

مجموعی طور پر مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض ایران کے بارے میں نہیں بلکہ خود اس خطے کے مستقبل کی جنگ ہے کہ اس کے قواعد کون طے کرے گا اور اس کے ثمرات کون سمیٹے گا۔ ایک ایسی یورپی حکمت عملی جو جمود برقرار رکھنے کی طرف مائل ہے اور دوسری امریکی حکمت عملی جو اسے تبدیل کرنا چاہتی ہے، ان کے درمیان یہ سوال کھلا ہے کہ کیا یہ مقابلہ حقیقی استحکام کی طرف لے جائے گا یا صدمات کے ایک نئے دور کی طرف؟

مستقل حقیقت یہ ہے کہ ایران میں کوئی بھی بنیادی تبدیلی، بشمول نظام کے خاتمے کا امکان، محض ایک مقامی واقعہ نہیں ہوگا بلکہ ایک ایسا علاقائی اور بین الاقوامی انقلاب ہوگا جو اثر و رسوخ کا نقشہ دوبارہ ترتیب دے سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں