امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ تازہ ترین امریکی تجاویز پر "آج رات" جواب کی توقع کر رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "امکان ہے کہ مجھے آج رات (ایران کی جانب سے) ایک پیغام موصول ہو، اس لیے ہم دیکھیں گے کہ معاملات کیسے آگے بڑھتے ہیں۔"
اسی دوران مطلع ذرائع نے بتایا کہ امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات آئندہ ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
ذرائع نے وضاحت کی کہ ایران نے پہلی بار جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے آمادگی کا اظہار کیا ہے، لیکن اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ افزودگی کی معطلی کی مدت یا افزودہ یورینیم کو ہٹانے کی تفصیلات پر ابھی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق امریکی حکام نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ حال ہی میں ایران کے ساتھ کئی دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا ہے جن میں ممکنہ سودے شامل ہیں۔
اسی طرح "اے بی سی" نیٹ ورک کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ مختلف ثالثوں کے ذریعے ایران کے ساتھ بات چیت کی گئی ہے۔
دوسری جانب ایک ایرانی اہل کار نے "وال اسٹریٹ جرنل" کو بتایا کہ ان کا ملک اب بھی جوہری مواد کی امریکہ منتقلی کا مخالف ہے۔
ایران تجویز پر غور کر رہا ہے
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران ابھی تک امریکی تجویز پر جواب کا مطالعہ کر رہا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعے کو واضح کیا کہ تہران ابھی تک امریکی تجویز پر جواب کا جائزہ لے رہا ہے اور حتمی نتیجے پر پہنچنے کے بعد اس کا اعلان کرے گا۔
واضح رہے کہ امریکہ نے حال ہی میں ایک ترمیم شدہ تجویز پیش کی تھی جس کا مقصد ایک فریم ورک کے مسودے کے ذریعے محدود اور عارضی معاہدے تک پہنچنا ہے تاکہ لڑائی کو روکا جا سکے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مطلع ذرائع نے بتایا کہ نیا منصوبہ جامع امن معاہدے کے بجائے قلیل مدتی مفاہمت کی یاد داشت پر مبنی ہے۔ یہ فریقین کے درمیان اختلافات کی شدت کو ظاہر کرتا ہے اور اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ اس مرحلے پر کوئی بھی معاہدہ عارضی ہو گا۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اس تجویز پر تین مراحل میں عمل درآمد کیا جائے گا، جو کہ جنگ کا باضابطہ خاتمہ، آبنائے ہرمز کے بحران کا حل اور امریکی محاصرے کا خاتمہ ہیں۔ اس کے بعد پھر جوہری معاملے سمیت وسیع تر معاہدے پر بات چیت کے لیے 30 دن کی مہلت دی جائے گی۔
یاد رہے کہ امریکی اور ایرانی فریقین کے درمیان اپریل کے اوائل میں اسلام آباد میں براہ راست طویل مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا، تاہم اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا۔ جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ کر لیا تھا، جبکہ تہران نے اہم آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند رکھنا جاری رکھا۔