امریکی حملے کی صورت میں ایران کی 90 فیصد افزودگی کی دھمکی
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے مجوزہ منصوبے پر اتفاق میں پیش رفت نہ ہونے کے دوران ایرانی پارلیمان کی کمیٹی برائے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے نئی وارننگ جاری کی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اگر ایران کو کسی نئے حملے کا سامنا کرنا پڑا تو تہران یورینیم کی افزودگی کو 90 فیصد تک لے جا سکتا ہے، جو کہ ہتھیار بنانے کے لیے قابل استعمال سطح سمجھی جاتی ہے۔
رضائی نے آج منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس'' پر لکھا: 90 فیصد افزودگی ایران کے ان ممکنہ آپشنز میں شامل ہو سکتی ہے اگر دوبارہ حملہ کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر پارلیمان میں بھی غور کیا جائے گا۔
یکی از گزینههای ایران در صورت حمله مجدد میتواند غنیسازی ۹۰ درصد باشد. در مجلس بررسی میکنیم.
— ابراهیم رضایی (@EbrahimRezaei14) May 12, 2026
قالیباف کا بھی انتباہ جاری
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس ایران کی 14 نکاتی تجویز قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں ''ایکس'' پر لکھا کہ کسی بھی دوسرے راستے کا نتیجہ بے فائدہ ہوگا اور مسلسل ناکامیوں کی صورت میں نکلے گا۔
قالیباف نے مزید کہا کہ جتنا زیادہ تاخیر کی جائے گی، امریکی ٹیکس دہندگان پر اتنا ہی زیادہ مالی بوجھ پڑے گا۔
There is no alternative but to accept the rights of the Iranian people as laid out in the 14-point proposal.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) May 11, 2026
Any other approach will be completely inconclusive; nothing but one failure after another.
The longer they drag their feet, the more American taxpayers will pay for it.
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ''انتہائی نازک حالت'' میں ہے اور ایران کا حالیہ جواب ''بہت برا اور احمقانہ'' تھا۔
اسی دوران امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، جیسا کہ سی این این نے رپورٹ کیا۔
حکام نے یہ بھی بتایا کہ صدر ٹرمپ اب آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش اور ایران کی قیادت میں اندرونی اختلافات کے باعث مذاکراتی عمل میں رکاوٹوں پر کم صبر کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ نے 8 اپریل سے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جو پاکستان کی ثالثی سے طویل تنازع کے بعد ممکن ہوا۔
بعد ازاں اسے غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا گیا تھا، تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان مکمل معاہدہ ممکن بنایا جا سکے۔