امریکی حملے کی صورت میں ایران کی 90 فیصد افزودگی کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے مجوزہ منصوبے پر اتفاق میں پیش رفت نہ ہونے کے دوران ایرانی پارلیمان کی کمیٹی برائے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے نئی وارننگ جاری کی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اگر ایران کو کسی نئے حملے کا سامنا کرنا پڑا تو تہران یورینیم کی افزودگی کو 90 فیصد تک لے جا سکتا ہے، جو کہ ہتھیار بنانے کے لیے قابل استعمال سطح سمجھی جاتی ہے۔

رضائی نے آج منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس'' پر لکھا: 90 فیصد افزودگی ایران کے ان ممکنہ آپشنز میں شامل ہو سکتی ہے اگر دوبارہ حملہ کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر پارلیمان میں بھی غور کیا جائے گا۔

قالیباف کا بھی انتباہ جاری

ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس ایران کی 14 نکاتی تجویز قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں ''ایکس'' پر لکھا کہ کسی بھی دوسرے راستے کا نتیجہ بے فائدہ ہوگا اور مسلسل ناکامیوں کی صورت میں نکلے گا۔

قالیباف نے مزید کہا کہ جتنا زیادہ تاخیر کی جائے گی، امریکی ٹیکس دہندگان پر اتنا ہی زیادہ مالی بوجھ پڑے گا۔

یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ''انتہائی نازک حالت'' میں ہے اور ایران کا حالیہ جواب ''بہت برا اور احمقانہ'' تھا۔

اسی دوران امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، جیسا کہ سی این این نے رپورٹ کیا۔

حکام نے یہ بھی بتایا کہ صدر ٹرمپ اب آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش اور ایران کی قیادت میں اندرونی اختلافات کے باعث مذاکراتی عمل میں رکاوٹوں پر کم صبر کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ نے 8 اپریل سے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جو پاکستان کی ثالثی سے طویل تنازع کے بعد ممکن ہوا۔

بعد ازاں اسے غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا گیا تھا، تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان مکمل معاہدہ ممکن بنایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں