متحدہ عرب امارات نے جمعہ کے روز ایرانی الزمات کو مسترد کیا ہے۔ ایران نے یہ الزامات 'برکس' کانفرنس کے دوران امارات پر اپنے جوابی حملوں کے جواز کے طور پر امارات پر لگائے تھے۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو اپنے خلاف شروع کی گئی دونوں کی مشترکہ جنگ کے تناظر میں پڑوسی ملکوں کے امریکہ و اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے کا الزام لگا کر ان ملکوں کو اپنے میزائل حملوں سے نشانہ بنایا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 'برکس' کانفرنس سے خطاب کیا۔ یہ 'برکس' کانفرنس نئی دہلی میں انعقاد پذیر ہوئی ۔ اماراتی وزیر مملکت خلیفہ شاہین نے ان الزمات کا جواب دیا تھا۔ انہوں نے کہا ایران نے پڑوسی ملکوں کی خود مختاری کو نشانہ بنانے کی کوشش کی اور ان کی قومی سالمیت پر حملے کیے۔
امارات نے جمعہ کے روز اس سلسلے میں دیے گئے بیان میں ایرانی الزمات کو مسترد کیا ہے۔ قرار دیا ہے کہ ایرانی کارروائیاں دہشت گردانہ حملے تھے۔ جن کا امارات کے ساتھ علاقے کے دوسرے ملک نشانہ بنے۔ اماراتی وزیر مملکت نے مزید کہا ہے کہ امارات ان ملکوں کو ہر طریقے سے جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔ ان طریقوں میں قانونی، سفارتی اور فوجی طریقے سے جواب دینا بھی شامل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا جبر اور الزام کے ذریعے یا بد نیتی کی بنیاد پر کیے گئے دعوؤں کی مدد سے امارات کو اس کے جائز مؤقف سے ہٹایا نہیں جا سکتا۔ نہ ہی امارات ان حربوں سے اپنے اعلیٰ تر قومی مفادات کے تحفظ سے باز آ سکتا ہے۔ امارات اپنی خود مختاری اور آزادانہ فیصلہ سازی کا حق رکھتا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا امارات کو اپنے دفاع کے لیے کسی اور سے مدد لینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ امارات اپنے دفاع اور تحفظ کی پوری اہلیت رکھتا ہے۔ نیز اپنی خود مختاری اور علاقائی سلامتی کا پورا قانونی حق رکھتا ہے۔