سعودی تنظیم کی جانب سے نایاب بلڈ گروپس والے عطیہ دہندگان کا ڈیٹا بیس قائم کرنے کا فیصلہ

مملکت کی آبادی میں او پوزیٹو بلڈ گروپ سب سے زیادہ پائے جانے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سعودی عرب کی ایک ماہر تنظیم معاشرے کے تمام طبقات کو ہدف بنانے والے تعلیمی پروگراموں کے ذریعے خون کا عطیہ دینے کی ثقافت اور بیداری کو فروغ دینے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے نایاب بلڈ گروپس والے عطیہ دہندگان کا ایک ڈیٹا بیس بھی بنایا جا رہا ہے جو مملکت کی آبادی میں بہت کم تناسب میں پائے جاتے ہیں تاکہ ان جیسے ہی بلڈ گروپس کے ضرورت مند مریضوں کی بروقت مدد کی جا سکے۔

خون کا عطیہ دینے کے شعبے میں کام کرنے والی پہلی ماہر تنظیم "دمی" کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر حمود البطی نے وضاحت کی ہے کہ سعودی عرب میں آبادی کے درمیان سب سے زیادہ پایا جانے والا بلڈ گروپ او پوزیٹو (O+) ہے جس کے بعد اے پوزیٹو (A+) کا نمبر آتا ہے، جبکہ نیگیٹو بلڈ گروپس جیسے (O- اور AB-) سب سے کم پائے جانے والے گروپس میں شمار ہوتے ہیں جن کی ہنگامی اور تشویشناک حالات میں سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

معلومات کے مطابق برطانوی ادارے "ایپسوس اینڈ موری" کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں سعودی باشندے خون کا عطیہ دینے کے جذبے کے لحاظ سے 28 ممالک میں 58 فیصد شرح کے ساتھ عالمی سطح پر پہلے نمبر پر برقرار ہیں۔ سعودی ہیلتھ سسٹم رضاکارانہ طور پر خون کا عطیہ دینے کی قدر کو مضبوط بنانے اور صحت عامہ کی بیداری کو بڑھانے کی ضرورت پر مسلسل زور دیتا ہے۔

اسی تناظر میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر حمود البطی نے انکشاف کیا کہ سعودی عرب میں خون کا عطیہ دینے کی صورتحال کو تقریباً 4 بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جیسے بڑھتی ہوئی مانگ کے مقابلے میں مستقل عطیہ دہندگان کی محدود تعداد، بعض طبقات میں باقاعدگی سے خون دینے کی اہمیت کے بارے میں بیداری کی کمی، خون کا عطیہ دینے کے عمل سے وابستہ غلط فہمیاں اور ہنگامی حالات کے لیے فوری طور پر کچھ نایاب بلڈ گروپس کی فراہمی میں درپیش مشکلات۔

سعودی ماہر ڈاکٹر البطی نے یہ بھی اشارہ کیا کہ مملکت نے گذشتہ برسوں کے دوران خون کا عطیہ دینے کی مہمات میں نمایاں ترقی دیکھی ہے، جس کی وجہ سماجی بیداری میں اضافہ اور موسمی مہمات و اقدامات کی تنظیم میں سرکاری و نجی اداروں اور صحت کی تنظیموں کی بھرپور شرکت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خون کے محفوظ ذخیرے کی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے مستقل عطیہ دہندگان کی تعداد میں اضافے کی ضرورت اب بھی موجود ہے۔



ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سعودی عہدیدار نے بتایا کہ سعودی تنظیم "دمی" نے اس سے قبل معاشرے میں خون کا عطیہ دینے کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور مختلف طبقات میں اس سے متعلق صحت کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے ایک تعلیمی اکیڈمی کا آغاز کیا تھا، جس کے پروگراموں سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد 13 ہزار 185 سے تجاوز کر چکی ہے۔

البطی نے وضاحت کی کہ یہ اکیڈمی نایاب بلڈ گروپس کے حامل افراد کا ڈیٹا بیس بنا کر اور ضرورت کے وقت ان سے رابطہ قائم کر کے مریضوں کی مدد کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خصوصی آگاہی مہمات چلائی جاتی ہیں اور بلڈ بینکوں و صحت کے اداروں کے ساتھ مسلسل کوآرڈینیشن کی جاتی ہے تاکہ مطلوبہ بلڈ یونٹس کی فراہمی کو تیز کیا جا سکے، خاص طور پر جب خون کے محفوظ ذخیرے کو سہارا دینے، رضاکارانہ و مستقل عطیات کی حوصلہ افزائی کرنے اور نایاب بلڈ گروپس والے تشویشناک حالات کے مریضوں کی مدد کرنے کی ضرورت بڑھ رہی ہو۔

اس کے ساتھ ہی البطی نے بتایا کہ اکیڈمی کا مقصد رضاکارانہ اور باقاعدہ طور پر خون کا عطیہ دینے کے تصور کو عام کرنا، خون دینے سے متعلق غلط فہمیوں کی تصحیح کرنا اور معاشرے میں یہ شعور بیدار کرنا ہے کہ عطیہ دہندگان ان مریضوں اور زخمیوں کی جان بچانے میں کیا کردار ادا کرتے ہیں جنہیں مسلسل خون کی منتقلی کی ضرورت ہوتی ہے۔

سعودی ہیلتھ سسٹم خون کا عطیہ دینے کی قدر کو مسلسل بڑھا رہا ہے، چنانچہ سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے خون کا عطیہ دینے کی ایک سالانہ مہم کا آغاز کیا ہے تاکہ معاشرے کے تمام طبقات کو اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دی جا سکے۔ یہ اقدام رضاکارانہ عطیات کی ثقافت کو راسخ کرتا ہے اور ہیلتھ سیکٹر میں قومی کوششوں کو آگے بڑھاتا ہے تاکہ کل عطیہ دہندگان میں رضاکارانہ عطیہ دینے والوں کا تناسب 100 فیصد تک پہنچایا جا سکے، جو کہ ایک صحت مند اور مربوط زندگی سے بھرپور متحرک معاشرے کے لیے سعودی عرب کے ویژن 2030 کے اہداف کا حصہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں