ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے حکم جاری کیا ہے کہ بین الاقوامی انٹرنیٹ سروسز کو ملک میں پھر سے کھول دیا جائے۔ یہ بات ایران کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کی ہے۔ ایک سرکاری عہدیدار نے اس سلسلے میں کہا تقریبا 90 دنوں سے انٹرنیٹ پر یہ پابندی جاری تھی اور یہ پابندی امریکہ اور اسرائیل کے حملے کی وجہ سے لگائی گئی تھی۔ رپورٹ میں ایرانی وزارت مواصلات کے تعلقات عامہ کے سربراہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔
تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس فیصلے کے بعد انٹرنیٹ کی بحالی کا کیا میکانزم اختیار کیا جاتا ہے۔ ایرانیوں کی بڑی تعداد 87 دنوں سے انٹرنیٹ تک رسائی سے قاصر تھی۔ یہ بات انٹرنیٹ کی مانیٹرنگ سے متعلق ایک ادارے 'انٹرنیٹ آبزوریٹری نیٹ بلاکس' نے پیر کے روز بتائی ہے۔ اس ادارے کے مطابق صرف وہی لوگ انٹرنیٹ کا بین الاقوامی سطح پر استعمال کرنے کی پوزیشن میں تھے جو 'وی پی این' کا استعمال کر رہے تھے۔
ایرانی حکام نے ابتدائی طور پر اپنی عوام کی انٹرنیٹ تک رسائی کو 8 جنوری سےاس وقت بند کیا تھا۔ جب ملک میں مہنگائی کے خلاف ہنگامے شروع ہو گئے تھے۔ اور یہ ہنگامے آہستہ آہستہ حکومت مخالف شکل اختیار کر گئے تھے۔ بعد ازاں امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے باعث بھی انٹرنیٹ تک رسائی کو روک دیا گیا۔
ایران میں عام دنوں میں بھی انٹرنیٹ کے عام استعمال پر کافی پابندیاں موجود رہتی ہیں۔ کئی ویب سائٹس پر سنسر شپ عائد ہے۔ جس سے عوام میں پریشانی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ آج کل ایران میں نصابی تعلیم کے لیے آنلائن کلاسز کا سلسلہ جاری ہے۔