مکہ کے افق پر نایاب منظر، سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر آ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

جمعرات کے روز مکہ مکرمہ کے آسمان پر ایک نادر اور عین درست فلکیاتی مظہر دیکھا گیا جب سورج تقریباً کامل طور پر کعبہ کے عین اوپر آ گیا۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق مقامی وقت دوپہر 12:18 پر اذانِ ظہر کے ساتھ قبلہ کی عالمی سمت متعین کرنے کا ایک قدرتی موقع ملا۔

جدہ آسٹرونومی سوسائٹی کے ڈائریکٹر ماجد ابو زہرہ نے کہا کہ سورج 89.94 ڈگری کی بلندی پر کعبہ کے عین اوپر کے قریب ترین مقام پر پہنچ گیا جس میں کامل مطابقت سے صرف 0.06 ڈگری (تقریباً 3.6) کا فرق تھا۔

چونکہ سورج کی شعاعیں زمین پر قائمہ زاویے پر پہنچتی ہیں تو خانہ کعبہ اور مکہ مکرمہ میں تمام عمودی اشیاء عین اس لمحے اپنے سائے سے محروم ہو گئیں یعنی انہیں قبلے کی درست سمت کا تعین کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا، سورج کے خطِ سرطان اور خطِ جدی کے درمیان حرکت کے نتیجے میں یہ فلکی مظاہرہ ہر سال دو بار ہوتا ہے۔ مساجد میں قبلے کی سمت درست کرنے میں اس کا تاریخی استعمال تو یقیناً ہے لیکن ساتھ ہی اس کی سائنسی اور تعلیمی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ اس کا تعلق فلکیاتی حسابات اور زمین کی حرکت سے متعلق تصورات کی وضاحت سے ہے۔

چونکہ مکہ تقریباً 21.4 درجے شمال میں واقع ہے تو سورج سال میں دو بار اس مقام سے براہِ راست گذرتا ہے - ایک بار مئی کے آخر میں اپنے شمال کی طرف سفر کے دوران، اور پھر جولائی کے وسط میں اپنی جنوب کی طرف واپسی پر۔

اپنی گہری روحانی اہمیت کے علاوہ یہ واقعہ خاطرخواہ سائنسی وزن کا حامل ہے جو حقیقی وقت میں سیاروں کی گردش اور آسمانی میکانیات کا مظاہرہ کرتا ہے۔ مؤرخین کے مطابق تاریخی طور پر "سائے کے بغیر" کی اس تکنیک کو قرون وسطیٰ کے اسلامی علماء نے براعظموں میں دور دراز کی مساجد میں قبلے کی سمت درست کرنے کے لیے پیش کیا تھا۔

شمسی قطار بندی درست طور پر عید الاضحیٰ کے دوسرے دن واقع ہوئی۔ چونکہ اسلامی کیلنڈر قمری ہے اور شمسی کیلنڈر کے مقابلے میں ہر سال اس میں تقریباً 10-11 دن کم ہو جاتے ہیں تو یہ ایک بہترین تقطیع ہے۔ یہ واقعہ ہر 33 سال میں صرف ایک بار رونما ہوتا ہے۔

اگرچہ سورج کے مقام کا تعلق اکثر شدید علاقائی گرمی سے جوڑا جاتا ہے لیکن سعودی عرب کے قومی مرکز برائے موسمیات نے واضح کیا کہ اس طرح کی صف بندی براہِ راست غیر معمولی گرمی کی لہروں کا سبب نہیں بنتی۔

این سی ایم نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی یومیہ درجہ حرارت کا تعلق نمی، ہوا کی حرکت اور اس کی رفتار سے ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں