الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کا مظاہرہ، فوج کے مسودے پر پورے اسرائیل میں سڑکیں اور ٹرینز بلاک

اسرائیلی فوج تعداد کی کمی کا شکار، الٹرا آرتھوڈوکس کا فوج میں شمولیت سے گریز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

دسیوں ہزار الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں نے پیر کو فوج میں لازمی بھرتی کے خلاف اسرائیل کے طول و عرض میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور سڑکیں اور ٹرینز بند کر دیں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی۔

اسرائیلی پولیس نے کہا کہ مظاہرین نے بڑے چوراہے بند کر دیے اور ایک فوجی پر حملہ کیا جو احتجاج کے قریب ایک بس سے اترا تھا۔ پولیس کو ہجوم پر قابو پانے اور اسے منتشر کرنے کے لیے پانی کی توپوں اور گھوڑوں سے جدوجہد کرنا پڑی۔

یروشلم اور تل ابیب دونوں کے میٹرو ایریا میں مظاہرین کے جمِ غفیر کی وجہ سے شاہراہیں بند اور عوامی نقل و حمل رک گیا جو ملک کے مرکز کو بڑے پیمانے پر مفلوج کر دینے کا سبب بن گیا۔

اسرائیل میں زیادہ تر یہودی حضرات و خواتین کے لیے فوجی خدمات لازمی ہیں۔ سیاسی طور پر طاقتور الٹرا آرتھوڈوکس جماعتوں نے اپنے پیروکاروں کے فوجی خدمات چھوڑ دینے اور اس کے بجائے دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے استثنیٰ حاصل کیا ہے لیکن یہ مستثنیات خطرے میں ہیں۔

بڑی تعداد میں اسرائیلی اس دیرینہ نظام سے تنگ ہیں جس کے تحت الٹرا آرتھوڈوکس مردوں کو ایک ایسے وقت میں فوجی خدمات سے رعایت مل گئی ہے جب فوج صبر و برداشت کی آخری حد تک جا پہنچی ہے اور کئی ایک فوجیوں نے بار بار ارکانِ مخصوصہ کے فرائض انجام دیے ہیں۔ یہ مسئلہ وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے حکومتی اتحاد کے لیے نقصان دہ ہے اور چونکہ الٹرا آرتھوڈوکس جماعتوں نے نیتن یاہو کے لیے اپنی حمایت واپس لے لی ہیں تو ممکنہ طور پر اس موسم خزاں میں ہونے والے انتخابات کئی ہفتے تک مؤخر ہو سکتے ہیں۔

ایک پارلیمانی کمیٹی کے مطابق ہر سال تقریباً 13,000 الٹرا آرتھوڈوکس مرد 18 سال کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں لیکن 10 فیصد سے بھی کم کا فوج میں بھرتی کے لیے اندراج ہوتا ہے۔

فوجیوں کی شدید قلت کے پیشِ نظر فوج لازمی سروس کی مدت میں توسیع کے لیے کوشاں ہے۔ زیادہ تر یہودی مردوں کے لیے تقریباً تین سال فوجی خدمات انجام دینا ضروری ہوتا ہے جس کے بعد سالوں کی ریزرو ڈیوٹی ہوتی ہے۔ یہودی عورتیں دو سال تک لازمی خدمت انجام دیتی ہیں۔

یروشلم میں ایک احتجاجی اسرائیل ٹراپر نے کہا، "یہ عوام پرعزم ہے، یہ اسے اپنی زندگیوں کی جنگ سمجھتے ہیں۔ ان کے نکتۂ نظر سے اسرائیلی فوج میں جانے کا مطلب مذہب کو ترک کر دینا ہے۔ ہم اپنا مذہب ترک نہیں کرنا چاہتے اس لیے یہ ہماری زندگیوں کی جنگ ہے۔" انہوں نے مزید کہا، جو دسیوں ہزار افراد فوج میں خدمات انجام دینے کی شدید مخالفت کرتے ہیں، انہیں مجبور کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔

بعض مظاہرین نے اسرائیل کے لیے مذمتی نشانات اٹھا رکھے تھے کہ "ہم صیہونیوں کے طور پر جینے کے بجائے یہودیوں کے طور پر مرنا پسند کریں گے" اور "ہم صیہونی مذہب کی خاطر فوج کی خدمت کرنے سے انکار کرتے ہیں۔"

الٹرا آرتھوڈوکس جو اسرائیلی معاشرے کا تقریباً 13 فیصد ہیں اور تیز ترین ترقی کرنے والا طبقہ ہے، کو روایتی طور پر استثنیٰ حاصل ہے اگر وہ مذہبی مدارس میں کل وقتی تعلیم حاصل کر رہے ہوں۔ یہ استثنیٰ 1948 میں ریاست کی پیدائش سے متعلق ہے جب ہولوکاسٹ کے باعث ختم ہو جانے کے بعد بہت کم تعداد میں طلباء نے یہودی سکالرشپ کا نظام بحال کرنے کی کوشش کی۔

ان مستثنیات — اور مدرسے کے کئی طلباء کو 26 سال کی عمر تک حکومت سے ملنے والے وظیفے — نے بڑی تعداد میں اسرائیلیوں کو مشتعل کر دیا ہے۔ اسرائیل اس وقت ایران کے خلاف جنگ لڑنے کے علاوہ غزہ، لبنان اور شام میں بیک وقت فوجی موجودگی کو برقرار رکھے ہوئے ہے جس سے اس کی مضبوط فوج انہدام کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔

اسرائیلی سپریم کورٹ نے کہا کہ 2017 میں استثنیٰ غیر قانونی تھا لیکن بار بار کی توسیع اور حکومت کے تاخیری حربوں نے انہیں جوں کا توں چھوڑ دیا ہے۔

اسرائیل کی یہودی اکثریت میں لازمی فوجی خدمات کو زیادہ تر ایک خاطرخواہ تبدلیلی لانے والی رسم سمجھا جاتا ہے۔ الٹرا آرتھوڈوکس کی الگ تھلک برادری میں کئی لوگوں کو خدشہ ہے کہ فوجی خدمات سے نوجوانوں کو سیکولر اثرات کے خطرے کا سامنا ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں