حزب اللہ کے اتحادی اور لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بری کے مشیر نے منگل کو اے ایف پی کو بتایا ہے کہ وہ حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل سے "عالمی جنگ بندی" کی پاسداری کی ضمانت دیں گے۔
حزب اللہ کی اتحادی جماعت امل پارٹی کے سربراہ بری نے طویل عرصے سے گروپ اور امریکہ کے درمیان ایک ثالث کے طور پر کام کیا ہے۔ امریکہ حزب اللہ کو ایک "دہشت گرد" تنظیم سمجھتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے اواخر میں کہا، اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے بیروت پر فوجی حملہ روکنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جب کہ حزب اللہ رضامند ہے کہ "تمام فائرنگ روک دی جائے گی۔"
مشیر علی ہمدان نے اے ایف پی کو بتایا، "سپیکر بری کا بنیادی مطالبہ عالمی جنگ بندی ہے۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جائے تو وہ حزب اللہ کی طرف سے پاسداری کی ضمانت دیں گے۔"
ہمدان نے مزید کہا، "عالمی جنگ بندی کا مطلب ہے اسرائیل کا فضائی، زمینی یا سمندری حملے روک دینا اور یہ جنوب میں دھماکے یا مسماری نہیں کرے گا" جہاں اسرائیل پر پورے گاؤں کو مسمار کرنے کا الزام ہے۔
ٹرمپ نے فریقین میں جنگ بندی کا اعلان کیا جس پر حزب اللہ نے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
امریکہ میں لبنان کے سفارت خانے نے پیر کے روز کہا کہ حزب اللہ نے "باہمی حملے بند کرنے" کی امریکی تجویز قبول کر لی۔
لبنان کے ایوانِ صدر سے جاری کردہ سفارت خانے کے بیان میں بیروت کے جنوبی مضافات کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا گیا، "مجوزہ انتظام کے تحت حزب اللہ کے اسرائیل پر حملے روکنے کے عوض الضاحیہ پر اسرائیلی حملے بند ہو جائیں گے اور تمام لبنانی علاقے شامل کرنے کے لیے جنگ بندی فریم ورک کو وسعت دی جائے گی۔"
ایران نے اصرار کیا ہے کہ شرقِ اوسط جنگ کے خاتمے کی غرض سے امریکہ کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے لیے لبنان میں جنگ بندی ایک اہم شرط ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف جو ملک کے چیف مذاکرات کار بھی ہیں، نے پیر کی رات کہا کہ ان کی بری سے فون پر بات ہوئی۔
قالیباف نے اپنے لبنانی ہم منصب کو بتایا ہے کہ "اگر لبنان پر اسرائیلی جارحیت جاری رہی تو ہم نہ صرف مذاکراتی عمل روک دیں گے بلکہ دشمن سے براہِ راست تصادم ہو گا،" انہوں نے اسرائیل کا حوالہ دیتے ہوئے ایکس پر کہا۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے پیر کے روز بتایا کہ لبنان پر اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے تہران اب واشنگٹن سے مذاکرات میں حصہ نہیں لے رہا ہے۔ تاہم اس کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔