امریکہ کے زیرِ قیادت اسرائیل اور لبنان کے نمائندوں کے درمیان 2 اور 3 جون 2026 کو چوتھا اعلیٰ سطحی سہ فریقی اجلاس منعقد ہوا۔
بدھ کی شام دونوں جانب سے جاری مشترکہ بیان میں جنگ بندی کے نفاذ اور "تجرباتی علاقوں" کے قیام پر اتفاق کا اعلان کیا گیا۔
تجرباتی علاقوں سے کیا مراد ہے؟
ان علاقوں کا بنیادی مقصد حزب اللہ یا کسی بھی غیر سرکاری مسلح تنظیم سے ان علاقوں کو خالی کرانا ہے، جہاں لبنانی مسلح افواج کو مکمل سکیورٹی اختیار حاصل ہوگا۔
یہ عمل دریائے لیطانی کے جنوب میں واقع علاقوں سے حزب اللہ کے مکمل انخلا اور بعد ازاں اسرائیلی فوج کے انخلا پر مبنی ہے۔
اس پیش رفت کی کامیابی کا دار و مدار حزب اللہ کے اسرائیل پر راکٹ حملے روکنے اور اسرائیل کے بیروت کے جنوبی مضافات کو نشانہ نہ بنانے پر ہے۔
دریائے لیطانی کے جنوب سے
مشترکہ بیان کے مطابق مذاکرات میں مزید سیاسی اور سکیورٹی امور پر بات چیت 22 جون سے شروع ہوگی تاکہ ایک جامع معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ لبنان اور ایران سے متعلق معاملات کو الگ کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرکے لبنان کو غیر عسکری بنانا چاہتے ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان امن قائم ہو سکے۔
میدانی صورت حال کے حوالے سے دونوں جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے درجنوں قصبوں پر فضائی حملے کیے اور متعدد دیہات خالی کرنے کا انتباہ جاری کیا۔ اس دوران بیروت کے جنوبی داخلی راستے پر ایک گاڑی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
دوسری طرف حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں اسرائیلی فوجیوں کے اجتماع کو راکٹوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیل نے یہ موقف اپنایا ہے کہ اگر حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر حملہ کیا تو وہ امریکی کی حمایت سے بیروت کے جنوبی مضافات کو نشانہ بنائے گا۔
تاہم حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے نائب سربراہ محمود قماطی نے کسی بھی جزوی جنگ بندی معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے اس سودے بازی کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔
یاد رہے کہ یہ جنگ 2 مارچ کو ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کے جواب میں شروع ہوئی تھی۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق اب تک اس جنگ میں 3516 افراد ہلاک اور تقریباً دس لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔