پیرس: اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی انکوائری کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

فرانس پہلا ملک بن گیا ہے جس نے اسرائیل کی طرف سے فلوٹیلا سے وابستہ انسانی حقوق کارکنوں کی حراست اور دوران حراست ان کے ساتھ بد سلوکی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے جنگی جرائم میں اسرائیل کے ملوث ہونے کی اپنے طور پر انکوائری شروع کر دی ہے۔

یہ تصدیق فرانس کے پراسیکیوٹر آفس نے جمعہ کے روز کی ہے۔ اس انکوائری کے شروع کرنے کی وجہ فلوٹیلا پر 18 مئی کو غزہ جانے کی کوشش کرنے والے 430 انسانی حقوق کارکنوں کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں کھلے پانیوں سے گرفتاری اور بعد ازاں ان کے ساتھ انتہائی بدسلوکی کے واقعات بنے ہیں۔

ان 430 زیر حراست لیے گئے فلوٹیلا کارکنوں میں کئی یورپی و دیگر ملکوں کے شہری شامل تھے۔ اسرائیل کی فوج کو غزہ کی طویل جنگ کے دوران لگ بھگ 75 ہزار فلسطینیوں کو قتل کرنے کا بھی ' اعزاز ' حاصل ہے۔ ان فلسطینی مقتولین میں بڑی تعداد فلسطینی بچوں اور خواتین کی تھی۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ کسی یورپی ملک نے باضابطہ طور پر خود جنگی جرائم کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات شروع کی ہیں۔

واضح رہے امریکہ کے بعد غزہ جنگ میں جن ملکوں نے اسرائیل کی سب سے زیادہ مدد کی اور اسے ہتھیاروں سمیت ہر طرح کی سفارتی حمایت دی ان میں یورپی ممالک نمایاں ہیں، البتہ سپین، آئر لینڈ وغیرہ نے اسرائیل کے خلاف نسبتا سخت مؤقف اختیار کیا ہوا ہے۔

اب فرانس کے پراسیکیوٹر آفس نے جسے عام طور پر ' پی اے این ٹی ' کہا جاتا ہے اس نے انسانی حقوق کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی بد سلوکی کا حکومت کے کہنے پر نوٹس لیتے ہوئے انکوائری شروع کی ہے کہ اسرائیل نے کس کس حوالے سے جنگی جرائم روا رکھے ہیں۔

انسانی حقوق کارکنوں کی حراست کا یہ واقعہ ماہ مئی میں پیش آیا تھا۔ اس سے پہلے بھی اسرائیلی فوج نے غزہ کی ناکہ بندی کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے جانے والے فلوٹیلاز کو اسی طرح جبری طور پر روکتے ہوئے ان کے سوراوں کو گرفتار کیا تھا۔

مگر اب کی بار اسرائیلی وزیر بین گویر نے جس طرح خود ہی ان انسانی حقوق کارکنوں کی تذلیل کرنے اور ان پر تشدد کے واقعات کو کھول دیا اس سے فرانس جیسے ملک کے لیے یہ کارروائی لازم ہو گئی۔ انسانی حقوق کے فلوٹیلا سوار 430 کارکنوں کو اسرائیلی فوج نے 18 مئی کو حراست میں لیا تھا اور 22 مئی کو رہا کر دیا تھا۔ تاہم اب بھی کئی انسانی حقوق کارکن ترکیہ میں زیر علاج ہیں۔

یہ زیر علاج کارکن فرانس سے ہی تعلق رکھتے ہیں جس کے تیس سےزائد انسانی حقوق کارکنوں کو اسرائیل نے حراست میں لیا تھا۔ کئی دوسرے یورپی ملکوں کے کارکنوں کو بھی بڑی تعداد میں گرفتار کیا گیا تھا۔

فرانس نے بین گویر کی اس حد تک بڑی ہوئی دہشت گردی کے سبب اس کے فرانس میں داخل ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اسرائیل کے لیے ایک اہم یورپی ملک کی طرف سے یہ سلوک سخت دھچکہ ہے۔ کیونکہ فرانس ہی وہ ملک تھا جس کے صدر غزہ جنگ شروع کرنے پر اسرائیل کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے سب سے پہلے اسرائیل گئے اور کہا ہم اسرائیل کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔

ایک انسانی حقوق کارکن نے اپنی اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں حراست کے منظر کو بہت خوف ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوجی اسے ایک ٹینکر میں گھسیٹ کر لے گئے اور اس پر تھپڑ برساتے رہے۔ وہ خوف زدہ تھی کہ اسرائیلی فوجی کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

دوسری کئی انسانی حقوق کارکنوں نے بھی اسرائیلی حکام پر بد ترین الزام لگائے ہیں تاہم اسرائیلی جیل حکام کا کہنا ہے کہ ان الزامات میں حقیقت نہیں ہے۔ لیکن اسرائیلی حکام جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں دنیا بھر کے انسانی حقوق ادارے اور انسانی حقوق رپورٹس اس کی گواہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں