شرق اوسط

ایران اور اسرائیل کے مابین محاذ آرائی کا دوبارہ آغاز، سفارتی امیدوں کو زک پہنچانے کا خدشہ

اسرائیلی حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کے خلاف جوابی کارروائی سے گریز کی اپیل کے چند گھنٹوں بعد ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پیر کے روز ایران اور اسرائیل کے مابین محاذ آرائی دوبارہ شروع ہو گئی ہے جو کہ ایک خطرناک کشیدگی ہے اور خطے میں اعلان کردہ جنگ بندی کو ایک مشکل امتحان میں ڈال رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کی امیدوں کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اسرائیلی حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کو تہران کے خلاف کارروائی سے گریز کی اپیل کے چند گھنٹوں بعد ہوئے۔

یروشلم میں لوگ پناہ گاہوں کی طرف بھاگ رہے تھے کہ اسی دوران دھماکوں کا ایک سلسلہ سنائی دیا جبکہ اسرائیلی فوج نے ایرانی میزائلوں کی ایک نئی لہر کو مار گرانے کا اعلان کیا۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ اس نے نیفاتیم (جنوب) اور تل نوف (وسطی اسرائیل) فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے اور یہ کارروائی اسرائیلی فوج کی جانب سے ایران کے اندر تین مختلف مقامات پر ریڈار تنصیبات کے خلاف کیے گئے میزائل حملے کے جواب میں کی گئی ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے فوجی اہداف اور پیٹرو کیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بنجمن نیتن یاھو کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی تھی کیونکہ اسرائیل نے ایران پر سنگین غلطی کا الزام عائد کیا تھا۔

ویب سائٹ ایکسیس کے صحافی باراک راوید کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ میں ابھی بی بی کو فون کروں گا تاکہ ان سے کوئی جواب نہ دینے کی درخواست کروں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے اپنا حملہ کر لیا اور ایران نے اپنا حملہ کر لیا ہے اور اب ہمیں مزید حملوں کی ضرورت نہیں ہے۔

فوکس نیوز چینل کے ساتھ ایک الگ انٹرویو میں ٹرمپ نے وضاحت کی کہ میں ایران کو یہ تجویز دے رہا ہوں کہ آپ نے اپنے میزائل داغ دیے ہیں اور یہ کافی ہے لہذا مذاکرات کی میز پر واپس آئیں اور معاہدہ کریں۔

دوسری طرف یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے بھی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا کہ خطے کو مزید کشیدگی کی ضرورت نہیں بلکہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر معاہدہ کرنا چاہیے۔

تہران نے اپنے موقف میں اس بات پر زور دیا کہ جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے کسی بھی معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے جہاں اسرائیل تہران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس کے باوجود اسرائیل نے گذشتہ اتوار کو بیروت کے جنوبی مضافات پر فضائی حملے کیے جو کہ چند روز قبل امریکہ کی جانب سے لبنان میں جنگ بندی کے منصوبے کے اعلان کے بعد پہلی بار ہوئے ہیں۔

ایران نے اس کے جواب میں اسرائیلی اہداف پر میزائلوں کی ایک سیریز داغی جس سے واشنگٹن اور تہران کے مابین بات چیت کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے لیکن ٹرمپ نے اصرار کیا کہ وسیع تر جنگ کے خاتمے کا معاہدہ ابھی بھی ممکن ہے۔

اس دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ اسرائیل کو بیروت پر حملے کے لیے گرین سگنل دے رہا ہے اور انہوں نے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی مفادات اب جائز اہداف بن چکے ہیں۔

کشیدگی کے باوجود پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کا تہران کا دورہ سفارتی کوششوں کے تسلسل کا عندیہ ہے۔وہ پیر کی صبح تہران پہنچے۔ انہوں نے پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے ایرانی قیادت کو ایک خصوصی پیغام پہنچایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں