اسرائیلی فوج کا خان یونس میں فضائی حملے میں القسام بریگیڈز کے ارکان کو قتل کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں حماس کے بحری پولیس ہیڈکوارٹر اور اسلحہ کے گوداموں پر حملہ کیا ہے۔ منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں فوج نے واضح کیا کہ اس نے دو روز قبل خان یونس کے علاقے میں حماس کے بحری پولیس کے مرکزی ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا تھا۔

فوج کے مطابق یہ ہیڈکوارٹر فوج کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ اس حملے کے نتیجے میں القسام بریگیڈز کے ارکان ہلاک ہوئے جن میں حماس کے عسکری ونگ کی ایک سیل کے کمانڈر اسماعیل اللحام بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ غزہ کی پٹی میں بحری پولیس حماس کے عسکری ونگ کے زیر کنٹرول کام کرتی ہے اور اسرائیل کے خلاف منصوبہ بندی اور کارروائیوں میں ملوث ہے۔ فوج نے مزید کہا کہ نشانہ بننے والا ہیڈکوارٹر تنظیم کی بحالی اور اسے مضبوط بنانے کی کوششوں کا مرکز تھا جو کہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی اور شہری تنصیبات کے غلط استعمال کے مترادف ہے۔

خیال رہے کہ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ اکتوبر 2025ء سے رکی ہوئی ہے جس کا اطلاق دو سال تک جاری رہنے والی خونی جنگ کے بعد جنگ بندی معاہدے کے تحت ہوا تھا تاہم پٹی پر اسرائیلی فضائی حملے وقفے وقفے سے جاری ہیں۔

اسرائیل نے نام نہاد یلو لائن کے اندر مزید پیش قدمی کی ہے اور تباہ حال فلسطینی علاقے کے 60 فیصد سے زائد حصے پر اپنا کنٹرول وسیع کر لیا ہے۔

دریں اثنا امریکہ کی حمایت یافتہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس میں پورے غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلا، حماس کو غیر مسلح کرنے اور پٹی کی تعمیر نو کی شقیں شامل تھیں۔

اس وقت اسرائیلی افواج پٹی کے نصف سے زائد رقبے پر قابض ہیں جہاں انہوں نے آبادی کو نقل مکانی کا حکم دیا ہے اور باقی ماندہ عمارتوں کو بھی مسمار کر دیا ہے۔

حماس کے زیر انتظام تقریباً 10 ہزار اہلکاروں پر مشتمل پولیس فورس غزہ کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے جاری مذاکرات میں تنازع کا باعث بنی ہوئی ہے۔ حماس ان اہلکاروں کو نئی پولیس فورس میں شامل کرنے پر زور دے رہی ہے جبکہ اسرائیل حماس کے کسی بھی فرد کے کردار کو مسترد کرتا ہے۔

غزہ کے تقریباً 20 لاکھ مکین ساحل کے ساتھ ایک تنگ پٹی میں رہنے پر مجبور ہیں، جن میں سے اکثریت عارضی خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں رہائش پذیر ہے جو کہ حماس کے کنٹرول میں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں