اردنی فوج کا ایران سے داغے گئے 20 میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا اعلان
میزائل گرانے کے نتیجے میں ملبہ گرنے سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا
اردنی فوج نےباضابطہ اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کی طرف سے داغے گئے 20 میزائلوں کو فضا میں ہی روک کر کامیابی سے مار گرایا ہے۔ یہ بات اردن کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اپنی خصوصی رپورٹ میں بتائی ہے۔
رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ایرانی میزائلوں کو فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد ان کا ملبہ زمین پر گرا ہے تاہم اس کے نتیجے میں کسی قسم کا کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔
اردن کی مسلح افواج کے جنرل کمانڈ کے ایک ذمہ دار عسکری ذرائع کے حوالے سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اردن کے فضائی دفاعی نظام اور رائل ایئر فورس کے جنگی طیاروں نے جمعرات کے روز علی الصبح ایران سے داغے جانے والے 20 میزائلوں کا فضا میں ہی راستہ روکا اور انہیں صوبہ زرقا کے علاقے الازرق کی طرف بڑھنے سے پہلے ہی مار گرایا۔
عسکری ذرائع نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی اس کارروائی کے نتیجے میں ملبے کے متعدد ٹکڑے مختلف مقامات پر گرے ہیں، لیکن خوش قسمتی سے کوئی بھی فرد زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی مادی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ فوج کی انجینئرنگ ٹیموں نے فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے ان میزائلوں کے باقیات اور ملبے کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ان کے اندر کوئی دھماکہ خیز مواد باقی نہ بچا ہو۔
عسکری ذرائع نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اردن کی مسلح افواج خطے کی موجودہ صورتحال، جنگی ماحول اور تمام تر پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری فوج مملکت کی فضائی حدود کے تحفظ، اس کی خودمختاری اور اراضی کی سلامتی کے دفاع کے لیے اعلیٰ ترین سطح کی تیاری اور الرٹ پر کام کر رہی ہے، اور کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں کسی بھی فریق کو اردن کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ غاصب صہیونی دشمن اور امریکہ کی طرف سے خطے میں پھیلائی گئی اس جنگ کی وجہ سے تمام عرب ممالک کی سکیورٹی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔