لبنان کی ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیلی فوج لبنانی علاقوں سے نہ نکلی تو ایران امریکہ کے ساتھ اپنے معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا۔ یہ بات حزب اللہ کی طرف سے منگل کے روز کہی گئی ہے۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے اگر اسرائیل نے لبنان میں اپنی فوج کا قیام جاری رکھا تو یہ مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی جس پر امریکہ اور ایران کا اتفاق ہوا ہے۔
لبنانی فوج نے ابھی تک لبنان کے وسیع علاقے کو جنوبی لبنان میں قبضے میں کر رکھا ہے۔ یہ قبضہ حالیہ تین ماہ میں حزب اللہ کے خلاف جاری جنگ کے دوران کیا گیا ہے۔ اس نئی جنگ کا آغاز 2 مارچ کو ہوا تھا۔
تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کے باعث لبنان میں اسرائیلی جنگی کارروائی کچھ کم ہو گئی مگر مکمل طور پر نہیں روکی گئی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنی فوج کو جنوبی لبنان سے نہیں نکالے گا۔
حزب اللہ نے اسرئیلی قبضے کے جاری رہنے پر اعتراض کیا ہے اور اپنے میڈیا آفس کی طرف سے کہا ہے اسے اندازہ ہے کہ ایران نے لبنان سے اسرائیلی انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔ جس کی تیاری مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کے دو ہفتے بعد کے لیے ہے۔ یہ انخلا اگلے مذاکراتی دور کا ہی ایک حصہ ہوگا۔
کہا جارہا ہے کہ اگلا مذاکراتی دور کئی مشکل امور کو طے کرنے کے لیے اہم ہوگا ۔ اس دور مذاکرات میں ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں اہم فیصلے ہوں گے۔
حزب اللہ نے کہا ہم پر اعتماد ہیں کہ اگر اسرائیل نے لبنان سے فوجی انخلا نہ کیا تو ایران امریکہ ساتھ جوہری معاہدہ نہیں کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی انخلا مذاکرات کا نتیجہ ہونا چاہیے نہ کہ مذاکرات کی پیشگی شرط ہونی چاہیے۔
حزب اللہ کے مطابق اسے ایران کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان کے ساتھ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تو اس سے آنے والے مذاکرات متاثر ہوں گے۔
منگل کے روز ایرانی وزیر خارجہ نے بھی کہا ہے علاقائی جنگ میں لازما لبنان میں جاری کشیدگی کا خاتمہ ضروری ہے۔ اسی طرح لبنان کی سرزمین سے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔
عباس عراقچی نے کہا اسرائیلی فوج کے لبنان سے انخلا کے بغیر جنگ کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہو سکتا ہے۔ لبنان پر اسرائیلی حملہ یا قبضہ جاری رکھنا ہمارے نزدیک مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی ہوگی۔