بحیرہ احمر : عجائب گھر پینل کی جدہ و طائف کے مشترکہ ورثے کے بارے میں نشست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب کے اہم شہروں جدہ اورطائف کے درمیان قدیمی ثقافتی و تاریخی تعلقات اور تہذیبی ورثے کے بارے میں عجائب گھر کے پینل نے ایک سیمینار کا اہتمام کیا ہے۔ جدہ اور طائف کے قدیمی رابطوں اور تعلقات کواس سیمینار کے سیشن میں ایک مشترکہ شناخت کے طورپر 'البلاد' کا نام دیا گیا۔

سیمینارکا عنوان اس دوطرفہ تاریخی تعلق کو نمایاں کرنے کے لیے تاریخی جدہ میں طائف کے جوہرکا نام دیا گیا تھا۔ دونوں شہروں سے تعلق رکھنے والے فنکاروں، موسیقاروں اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے ماہرین کو بطور خاص سیمینار میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔

اس موقع پر بحیرہ احمر کے عجائب گھر کے ڈائریکٹر ایمان زیدان نے سیمینار کی میزبانی کے فرائض انجام دیے۔ جبکہ اکیڈمی کی جنرل مینجر سمیعہ شوائل نے بھی خطاب کیا۔ علاوہ ازیں وزارت ثقافت میں آثار قدیمہ کے ماہرین ابراہیم الشیا، بندر الشریف، طارق عبدالحکیم میوزیم کے ڈائریکٹر عزام الغامدی شریک ہوئے۔

ایمان زیدان نے سیمینار سے اپنے خطاب میں کہا طائف اور جدہ کے درمیان تاریخی اور قدیمی تعلق ہے۔ جدہ شروع سے ہی طائف اور اس کی پیداور کے لیے ایک بندر گاہی گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے ۔

انہوں نے اس ضمن میں بامب البنت کو قدیمی مسافروں اور تاجروں کے لیے اہمیت کی جگہ قرار دیتے ہوئے کہا اسی وجہ سے طائف کی دوسرے ملکوں کے شہروں تک رسائی ممکن ہوتی رہی۔ طائف کے پھلوں اور دیگر اشیائے خورد و نوش کا بطور خاص ذکر کیا گیا۔

زیدان نے مزید کہا اس سیمینار کا مقصد ثقافتی و تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں شہروں کے قدیمی و ثقافتی تعلق کو اجاگر کرنا ہے۔ نہ صرف اجاگر کرنا ہے بلکہ اسے بحال بھی کرنا ہے۔ تاکہ نئی نسل اس تاریخ سے آگاہ ہو سکے۔

اہم اور مزے کی بات یہ ہے کہ جدہ اورطائف دونوں شہرہی دنیا میں کھانوں کی ورائٹی کے حوالے سے شہرت پارہے ہیں۔ اس سلسلے میں ثقافت کی وزارت بھی کام کر رہی ہے۔ دونوں شہروں کی ثقافتی و تخلیقی تاریخ میں طائف کے گلابوں اور ان سے کشید کیے جانے والے عطر کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

سمیعہ نے دونوں شہروں کی تاریخی قربت و تعلق کو اس طرح پیش کیا کہ یہ ایک دوسرے کے ساتھ ہی مکمل ہوتے ہیں۔ طائف میں چیزیں تیار ہوتی تھیں اور روایتی طور پر جدہ کی بندرگاہ ان چیزوں کی بیرون ملک تک رسائی کا ذریعہ بنتی تھی۔ کیونکہ جدہ مغربی سعودی عرب کا دروازہ ہے۔ اسی راستے سے مملکت کا دوسرے خطوں سے اشیا کے تبادلے کا اہتمام رہا ہے۔ اس ناطے جدہ اور طائف دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں