ایک ایسے وقت میں جب دونوں ممالک واشنگٹن میں امریکی ثالثی میں مذاکرات کر رہے ہیں ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا ہے کہ تل ابیب جنوبی لبنان سے اپنی فوجیں اسی وقت واپس بلائے گا جب حزب اللہ کو غیر مسلح کر دیا جائے گا۔ حکومتی ترجمان ڈیوڈ مینسر نے صحافیوں کو بریفنگ کے دوران کہا کہ ہم جنوبی لبنان سے اپنی فوجیں اس وقت تک واپس نہیں بلائیں گے جب تک حزب اللہ ایک خطرہ بنی رہے گی۔ حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا جائے گا اور اس کی فوجی صلاحیتوں کو ختم نہیں کیا جائے گا۔
اس سے قبل سینئر اسرائیلی اور لبنانی حکام نے جنوبی لبنان کے بفر زون سے کسی بھی اسرائیلی انخلا کی تردید کی ہے۔ یہ تردید اس وقت سامنے آئی جب ایک امریکی عہدیدار نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل نے لبنانی حکومت کے لیے خیر سگالی کے جذبے کے تحت خطے سے اپنی کچھ فوجیں واپس بلا لی ہیں۔ یہ ردعمل امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار کے اس بیان کے جواب میں آیا جس نے آج کے اوائل میں تصدیق کی تھی کہ اسرائیل بفر زون کے اس حصے سے پیچھے ہٹ گیا ہے جو اس نے حزب اللہ کے ساتھ اپنی جنگ کے دوران جنوبی لبنان میں قائم کیا تھا۔
عہدیدار نے اسرائیلی پسپائی کو لبنانی حکومت کے لیے خیر سگالی کا جذبہ قرار دیا اور کہا کہ لبنانی فوج کو اب اس علاقے میں منتقل ہونا چاہیے جہاں سے اسرائیل پیچھے ہٹا ہے۔ اہلکار نے یہ واضح نہیں کیا کہ اسرائیلی افواج کتنے رقبے سے پیچھے ہٹی ہیں یا انخلا کا صحیح مقام کیا ہے۔
واضح رہے اسرائیل اور لبنان امریکہ کی حمایت یافتہ ایک تجویز پر بحث کر رہے ہیں جس کے تحت اسرائیلی افواج لبنانی سرزمین کا وہ حصہ، جس پر انہوں نے حزب اللہ گروپ کے ساتھ جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا، لبنانی فوج کے حوالے کر دیں گی تاکہ لبنان مقبوضہ علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی طرف قدم بڑھا سکے۔
ایک "پائلٹ زون" قائم کرنے کی تجویز واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے تازہ ترین دور کا حصہ ہے۔ واضح رہے ایران کی جانب سے لبنانی معاملے کو امریکہ کے ساتھ اپنے مذاکرات میں شامل کرنے کی کوششوں کے باعث ان مذاکرات کی رفتار سست پڑ گئی تھی۔